دنیا بھر میں 160 ارب ڈالر بیمہ مالیت کے طیارے گرائونڈ، انشورنس کمپنیوں کو تحفظات

ائیرپورٹس پر بڑے گروپوں میں کھڑے طیاروں کے حوالے سے بھی خطرات موجود ہیں کیونکہ یہ دہشت گردوں کا آسان ہدف ہو سکتے ہیں

337

لندن: کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر کی بین الاقومی پروازیں بند ہیں اور ہزاروں جہاز دنیا بھر کے ائیرپورٹس پر کھڑے ہیں جن کی بیمہ مالیت 160 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جس پر انشورنس کمپنیاں تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔

انشورنس بروکر گلاگر (Gallagher) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سنگا پور کے ائیرپورٹس پر سب سے زیادہ 205 ہوائی جہاز جبکہ ہانگ کانگ کے 178 ہوائی جہاز گراؤنڈ کیے گئے ہیں۔

Luton Airport car park

سپین کے شہر میڈریڈ میں 158 ہوائی جہاز گراؤنڈ ہیں اگرچہ 40 جہاز نیو یارک ائیرپورٹ پر گراؤند کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق دینا بھر کے 20 بڑے ائیرپورٹس پر 164 ارب ڈالر مالیت کے بیمہ شدہ جہاز کھڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

کورونا وائرس سے نقصان،امریکی ائیرلائنز کا حکومت سے 12 ارب ڈالر امداد کی اپیل کا فیصلہ

کورونا وائرس، برٹش ائیرویز کا 36 ہزار ملازمین معطل کرنے کا فیصلہ

آٹوموبائل سے ایوی ایشن انڈسٹری تک سب معاشی بحران کا شکار، مختلف ہنگامی اقدامات کرنے پرغور

کورونا وارئس کی وبا کے سبب دنیا بھر میں لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کی وجہ سے ائیرلائنز کی آمدن میں بے حد کمی آئی ہے۔

Planes at Cardiff airport

ہائیو ایرو (Hive Aero) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “غیرادا شدہ پریمیم اور قرضوں کی عدم ادائیگی کا مطلب ہے کہ ائیرلائنز ناکامی سے دوچار ہو جائیں گی۔”

انہوں نے مزیدکہا کہ ائیرلائنز ممکنہ طور پر اپنے کچھ پریمیمز واپس لیں گی کیونکہ مسافروں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ائیرپورٹس پر بڑے بڑے گروپوں میں کھڑے طیاروں کے حوالے سے بھی خطرات موجود ہیں کیونکہ وہ دہشت گردوں کا آسان نشانہ ہو سکتے ہیں۔

Planes at Birmingham airport

رپورٹ کے مطابق انشورنس کمپنیوں نے ان تمام طیاروں کی انشورنس سے انکار کردیا ہے جو مغربی ممالک کے علاوہ ہیں بنائے گئے یا کچھ حد تک پرانے ہو گئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے ایوی ایشن کی صنعت حفاظتی اقدامات میں سختی آنے اور مسابقت بڑھنے سے انشورنس ریٹ کم ہو گئے ہیں اس لیے بیمہ کمپنیاں انشورنس کی پیشکش کے ساتھ 20 سے 25 فیصد ریٹ بڑھانے کی بھی خواہشمند ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here