تعمیراتی شعبے کیلئے حکومتی پیکج میں سٹیل انڈسٹری نظر انداز

سٹیل انڈسٹری پہلے ہی مشکلات سے دوچارتھی، لاک ڈاؤن سے مسائل مزید بڑھ گئے، کمپنیاں دیوالیہ ہونے کا خدشہ، سٹیل سیکٹر کے بغیر پیکیج بے معنی: پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج سٹیل پروڈیوسرز

150

اسلام آباد:  سٹیل سیکٹر کو تعمیراتی شعبے کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے تاہم حکومت نے تعمیراتی شعبے کیلئے پیکیج اعلان کرتے ہوئے سٹیل سیکٹر کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج سٹیل پروڈیوسرز(پی اے ایل ایس پی) نے مذکورہ شعبے کو ‘نظرانداز’ کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سٹیل انڈسٹری کے بغیر یہ تعمیراتی پیکیج بے معنی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تعمیراتی پیکیج کے اعلان کے بعد پی اے ایل ایس پی نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے سٹیل انڈسٹری کو نظر انداز کرنے پر شدید دھچکا لگا ہے جبکہ انڈسٹری کی جانب سے کورونا وائرس سے پیدا شدہ بحران کے باعث حکومت سے تعاون کی اپیل کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

وزیراعظم کا کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈکے قیام، تعمیراتی شعبے کو 14 اپریل سے کھولنے کا اعلان

کورونا وائرس کے اثرات، سٹیل سیکٹر کا بیل آئوٹ پیکیج کا مطالبہ

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سٹیل انڈسٹری کے بغیر تعمیراتی کام ممکن نہیں، یہ کہنا فضول ہے کہ سٹیل سیکٹر تعمیراتی سرگرمیوں میں مدد فراہم کرے گا، سٹیل انڈسٹری پہلے ہی مشکلات سے دوچار تھی، لاک ڈاؤن سے اس کی مالی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے، کئی کمپنیاں دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق سٹیل سیکٹر تعمیراتی شعبے کو میٹریل فراہم کرتا ہے اور اسے ملک بھرمیں فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر سٹیل ملز  اور دکانیں بند رہتی ہیں تو تعمیراتی کام کیسے چلے گا؟

 سٹیل انڈسٹری نے سٹیٹ بینک سے چھ ماہ تک انڈسٹری کی بحالی کے لیے بغیر سود کے قرضوں کا مطالبہ کیا تھا تاکہ سیکٹر میں لیکویڈیٹی پیدا کی جا سکے۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ تمام تعمیراتی شعبے سے متعلق مواد پر لوہے اور سیمنٹ کے علاوہ ود ہولڈنگ ٹیکس میں رعایت دے دی گئی ہے۔

علاوہ ازیں تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے انکے ذرائع آمدن بارے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔ تعمیراتی شعبہ 14 اپریل کو لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد کھولا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here