‘ابھرتی ہوئی معیشتوں سے 90 ارب ڈالر کا سرمایہ نکل چکا’

296

اسلام آباد:   بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹرکرسٹلینا جارگیوانے کہاہے کہ دنیاء کواس وقت تاریخ کے بدترین بحران کاسامناہے جس سے نکلنے کیلئے اتفاق رائے سے اقدامات کرنا ہوں گے۔

ہفتہ کوایک ویڈیوکانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیاء کی معیشت اوراقتصادی سرگرمیاں یک دم رک گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا اب کسادبازاری کے دورمیں داخل ہوگئی ہے،یہ عالمی مالیاتی بحران سے بدترین صورتحال ہے،یہ ایک ایسابحران ہے جس سے نکلنے کیلئے ہمیں مل کرآگے بڑھناہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: 

عالمی معیشت کو چار کھرب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو سکتا ہے: اے ڈی بی

لاک ڈاون کے باعث پاکستانی معیشت کو 30 ارب روپے کا نقصان

عالمی معیشت آنے والے کئی برسوں تک حالیہ بحران کے اثرات کا سامنا کرتی رہے گی: عالمی ادارہ

کرسٹلینا جارگیوا نے کہاکہ جس طرح عالمی ادارہ صحت لوگوں کی صحت کے تحفظ کیلئے کام کررہاہے اسی طرح بین الاقوامی مالیاتی فنڈ دنیاء کی معیشت کے تحفظ کیلئے کام کررہاہے،اس وقت یہ دونوں ادارے محاصرے کی کیفیت میں ہیں اوردونوں ادارے مل کراپنے فرائض سرانجام دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ زندگیوں اورروزگارکومحٖفوظ بنانا ہمارابنیادی ہدف ہے۔ حالیہ بحران سے ابھرتی ہوئی معیشتیں بری طرح متاثرہوئی ہیں،یہ ایسے ممالک ہیں جن کے پاس شہریوں اورمعیشت کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے زیادہ وسائل نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ حالیہ بحران کے خاتمہ کیلئے ہم سب کومل کراتفاق رائے سے آگے بڑھنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا بحران کے اس دورمیں کمزورمعیشت والے ممالک کی مددکرنا ہماری اولین ترجیح ہوناچاہئیے۔کئی ممالک میں صحت عامہ کانظام کمزورہیں،ابھرتی ہوئی معیشیتوں سے 90 ارب ڈالر کی رقم اٹھائی جاچکی ہے اوریہ ایسی صورتحال ہے جس کاسامنا ہمیں عالمی مالیاتی بحران میں بھی نہیں ہواتھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here