23 کمپنیوں کے تیار کردہ سینیٹائزرز غیر معیاری قرار

182

اسلام آباد: وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ذیلی ادارہ برائے کوالٹی کنٹرول نے ملک بھر میں فروخت کیے جانے والے 23 کمپنیوں کے تیار کردہ سینیٹائزرزکو غیر معیاری قرار دے دیا۔

کوالٹی کنٹرول ادارہ کی طرف سے وزارت کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور، گوجرانوالہ، بہاولپور فیصل آباد بعد میں تیار کرکے ملک بھر میں فروخت کئے جانے والے 23 کمپنیوں کے سینیٹائزرز غیرمعیاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

مقامی طور پر تیار کردہ وینٹی لیٹرز کی کلینیکل جانچ شروع

جاپان میں مقیم پاکستانی بزنس مین کی 16 وینٹی لیٹر عطیہ کرنے کی پیشکش

کورونا وائرس، وینٹی لیٹرز کی عالمی قلت کے باعث پاکستان کا مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کا فیصلہ

ان سینی ٹائزرزکو تیار کرنے میں مطلوبہ اجزاء شامل نہیں کیے گئے۔ جس کی بنا پریہ سینیٹائزرز کورونا وائرس سمیت دیگر چراثیم کو کش کرنے کیلئے عالمی ادارہ صحت کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔

اس حوالے سے پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ لاہور کی کمپنی شیخ سنز کا تیار کردہ سینیٹائزر پی جی امپیکس لاہور، ایڈوانس جرم ایکس لاہور،فائن ایکس لاہور،جی نیچرل لاہور، بیفکری لاہور کیئر فیملی، جرم پروٹیکشن لاہور، ویونٹ لاہور،24 کیرٹ، لاہور، این ایم پی، لاہور، کلین اینڈ شائین گوجرانوالہ، لائیوی گو جرانوالہ، میرا کل گوجرانوالہ،آلہ ڈینبیز بہاولپور، سیفران ضلع بہاولپور کیئرز فیصل آباد،وینس فیصل آباد، ریڈونڈفیصل آباد، کروما لاھور جانسنز لاہور اور کیپکس اسلام آباد شامل ہیں۔

ان کمپنیوں میں بعض نے سینیٹائزرزکی تیاری کے لیے کمپنی کے حوالے کے طور پرترکی لاہور اور اسلام آباد کے پتے بھی دے رکھے ہیں جبکہ انہیں تیار فیصل آباد بہاولپور،گوجرانوالہ جیسے شہروں سے تیار کروا کے پیکنگ کرواتے تھے۔

وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ان غیر معیاری سینیٹائزرز کوفوری طور پر مارکیٹ سے ہٹانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here