کورونا کے تناظر میں سٹیٹ بنک کے حالیہ اقدامات پاکستانی بنکوں کے لیے مددگار ثابت ہونگے: موڈیز

شرح سود میں کمی، قرض ادائیگیاں موخر کرنے اور کیپٹل کنزرویژن بفر میں کمی معاشی سست روی سے مقابلے میں بنکوں کی مدد میں معاون قرار

96

 کراچی : عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث  پیدا ہونے والی معاشی سست روی کے تناظر میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کے اقدامات سے ملکی بنکوں کو فائدہ ہوگا۔

ان اقدامات میں اسٹیٹ بنک کی جانب سے شرح سود میں 150 بیسز پوائنٹس کی کمی کرکے اسے 12.5 فیصد سے  11 فیصد پر لانا۔ قرض ادائیگیوں کو موخر کرنے کی اجازت دینا اور کیپٹل کنزرویژن بفر کو 2.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانا شامل ہیں۔

موڈیز پانچ پاکستنی بنکوں کی ریٹنگ جاری کرتا ہے جن میں حبیب بنک،  نیشنل بنک آف پاکستان، یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ اور مسلم کمرشل بنک شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

 رواں سال پاکستان کی اقتصادی بڑھوتری کی شرح 2.6 فیصد ،آئندہ سال بحالی کے ساتھ 3.2 فیصد رہنے کی پیشگوئی

کورونا وائرس ، اسٹیٹ بینک اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے ریلیف پیکیج جاری کردیا

کیا پاکستانی معیشت میں کیش کے بڑھنے کی کوئی امید ہے؟

موڈیز انویسٹرز سروسز کے نائب صدر کونسٹینٹی نس کیپریوز (Constantinos Kypreos) کا کہنا ہے کہ ان بنکوں کو حکومتی مدد سے بہت زیادہ فائدہ ہوگا اور شرح سود میں کمی کریڈٹ ریٹ کو برقرار رکھنے میں بہت مدد دے گا۔

تاہم ایجنسی کا کہنا ہے کہ کم شرح سود سے اگرچہ قرض دار کی قرض لوٹانے کی صلاحیت بہتر ہوگی  مگر اس سے بنکوں کی کمائی میں بھی کمی آئے گی۔

مزید برآں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرکزی بنک نے پرو فارما اکاونٹس کی تشکیل انٹرنیشنل فنانسنگ رپورٹنگ اسٹینڈرڈ نمبر 9 کے تحت اگست 2020 تک موخر کردی ہے جسے یکم جنوری 2021 تک مکمل طور پر نافذ ہونا ہے۔

ایجنسی نے مالی سال 2020 تک پاکستان کے جی ڈی پی کی شرح نمو دو سے ڈھائی فیصد تک رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔ اس سے پہلے ایجنسی نے یہ 2.9 فیصد بتائی تھی ۔

موڈیز نے پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ برآمدات میں 60 فیصد حصہ ڈالنے والے شعبے کی سپلائی اور سودے کورونا وائرس کے باعث شدید متاثر ہوئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here