عالمی معیشت کو چار کھرب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو سکتا ہے: اے ڈی بی

ایشیا کی اقتصادی نمو کی شرح 2.2 رہنے کا امکان، اگر لاک ڈاؤن اور بندشوں کی مدت کم کر دی جائے، تو شاید نقصان میں کمی ہو سکے: ایشیائی ترقیاتی بینک

207

منیلا: کورونا وارئرس کی وجہ سے دنیا بھر کے دو تہائی ممالک میں جزوی یا مکمل لاک ڈائون کیا گیا ہے جس کے باعث بین الاقوامی تجارت محدود ہو چکی ہے، بڑے کاروباری ادارے اور کمپنیاں یا تو مکمل بند ہیں یا پھر ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کا حکم دے چکی ہیں۔

عالمی سٹاک مارکیٹس کریش کرچکی ہیں اور تیل کی منڈیاں بھی تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہی ہیں، تیل کی قیمت 26 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے جا چکی ہے، یوں کورونا وائرس کے باعث عالمی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

حال ہی میں ایشیائی ترقیاتی بینک نے خبردار کیا ہے کہ عالمگیر وبا سے عالمی اقتصادیات کو ہونے والے نقصانات کا حجم چار کھرب ڈالرز سے بھی زائد ہو سکتا ہے۔

اس ضمن میں جاری کردہ بیان میں منیلا میں قائم اس بینک نے یہ بھی کہا کہ اس پیشنگوئی میں مختلف شعبہ جات کے طویل المدتی نقصانات شامل نہیں اور اسی لیے یہ حجم اور بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

کورونا وائرس نےعالمی معیشتوں کوہلا کر رکھ دیا،شائد پاکستان کے لیے ویسا تباہ کن ثابت نہ ہو

امریکا میں کورونا وائرس کے باعث 66 لاکھ سے زیادہ ورکرز بے روزگار

کورونا وائرس، معاشی نقصانات سے نمٹنے کے لئے ترقی پذیر ممالک کو 25 کھرب ڈالر کی ضرورت ہو گی

اے ڈی بی کے مطابق رواں سال ایشیا کی اقتصادی نمو کی شرح 2.2 رہ سکتی ہے۔ بینک نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن اور بندشوں کی مدت کم کر دی جائے، تو شاید نقصان میں کمی ہو سکے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کانفرنس آن ٹریڈ، انوسٹمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ (یو این سی ٹی اے ڈی) نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت کو دو کھرب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق یہ وائرس کچھ ملکوں کو معاشی بحران کا شکار کرے گا اور مجموعی طور پر عالمی معیشت کی شرح نمو میں نمایاں کمی کا باعث بنے گا اس لیے یو این او نے حکومتوں سے اپنے اخراجات کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

 اسی غیر یقینی کی صورت حال کے باعث ورلڈ بنک اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) کے ممالک کی جانب سے قرضوں کی واپسی کو کچھ مدت کے لیے موخر کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

واضح رہے کہ آئی ڈی اے کے رکن ممالک میں دنیا کی ایک چوتھائی آبادی رہتی ہے اور دنیا کی دو تہائی آبادی کے برابر افراد انتہائی غربت میں گزر بسر کر رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے  آئی ڈی اے ممالک کی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here