آم کے گودے کی برآمد، پاکستان کے لیے 500 ملین ڈالر کمانے کا ذریعہ بن سکتی ہے: ماہرین

کورونا کے باعث محفوظ خوراک کا رجحان بڑھے گا، جدید اور محفوظ طریقے سے گودے کی پیداوار اور برآمد زرمبادلہ کمانے کا بہترین موقع ہے: ماہرین

333

پھلوں کے گودے کی صنعت نے حکومت پر زور دیا ہے کہ  وہ آم کے کاشتکاروں اور برآمد کنندگان سے آم کے پھل کوبنا ملاوٹ گودے میں تبدیل کرنے کے حوالے سے بات چیت کرے۔

حکومت کو بتایا گیا ہے کہ جراثیم کش پیکنگ گودے کی زندگی 24 ماہ تک بڑھا دیتی ہے جس کو برآمد کرنے سے برآمدات 500 ملین ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہیں۔

صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا تھا کہ ہر بحران اپنے ساتھ کچھ مواقعے بھی لے کر آتا ہے اور کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے معاشی حالات سے نکلنے کے لیے آم کی فصل اور اسکے گودے کی امپورٹ ہمارے لیے بہترین معاشی موقع ہے۔

انکا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے بعد لوگوں میں صحت کےحوالے سے احتیاط کا رویہ بڑھ جائے گا اور لوگ محفوظ غذا کو ترجیح دیں گے اور پاکستان کے لیے یہ آموں کے گودے کی برآمد کے ذریعے کئی ارب کا زرمبادلہ کمانے کا موقع ہے۔

حکومت پاکستان سے پھلوں کے گودے کی صنعت سے وابستہ افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ اس صنعت میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے اور بنک اس سلسلے میں آسان قرضے فراہم کریں۔

پاکستان میں آم کی پیداوار:

آم دنیا کے سو ملکوں میں اگایا جاتا ہے اور اس وقت دنیا بھر میں اسکی سالانہ پیداوار چار کروڑ چالیس لاکھ ٹن ہے۔

پاکستان میں آم 167 ہیکٹر کے رقبے پر کاشت کیاجاتا ہے اور ملک میں اسکی سالانہ پیداوار 2.30 میٹرک ٹن ہے اور یہ ملک کی پھلوں کی فصلوں میں دوسرے نمبر پر ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے مطابق پاکستان آم کی پیداوار میں بھارت، چین، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے بعد پانچویں نمبر پر ہے۔

پاکستان میں آم کی کاشت کا علاقہ:

پاکستان میں آم کی کاشت کا آدھے سے زیادہ یعنی 104.9 ہزار ہیکٹر رقبہ پنجاب میں ہے اسکے بعد سندھ کا نمبر آتا ہے جہاں یہ پچاس ہزار ہیکٹر پر کاشت کیا جاتا ہے. بلوچستان اس حوالے سے تیسرے جبکہ خیبر پختون خواہ چوتھے نمبر پر ہے جہاں پھلوں کا بادشاہ بلترتیب 1.4 اور 0.3  ہزار ہیکٹر پر کاشت کیا جاتا ہے۔

شہروں کی بات کی جائے تو آم کی کاشت کے حوالے سے بہاولپور، ڈیرہ اسماعیل خان، حیدرآباد، ملتان، خانیوال، ساہیوال، مظفر گڑھ، صادق آباد، رحیم یار خان، وہاڑی اورٹھٹہ اہم اضلاع ہیں۔

کم علمی ، لا پرواہی  اور بے احتیاطی کے باعث آم کا ضیاع:

پاکستان میں غذایت ، شکل اور حالت کے اعتبار سے بہترین آم پیدا ہوتا ہے مگر بد قسمتی یہ بہت بڑی تعداد میں فارم سے مارکیٹ تک لانے کے عمل میں ضائع یا خراب ہوجاتا ہے۔

ماہرین نے اسکا اندازہ پیداوار کا 35 فیصد لگایا ہے ۔

اگرچہ پاکستانی آم کی بیرونی دنیا میں بہت زیادہ مانگ ہے مگر اس پھل کی جلدی خراب ہوجانے کی فطرت اور اسکی برآمد کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے یہ زیادہ بڑی مقدارمیں برآمد نہیں کیا جاتا اور مقامی طور پر ہی فروخت ہوجاتا ہے۔

مزید برآں حفاظتی اقدامت سرے سے نہ ہونے یا غیر معیاری ہونے کی وجہ سے ہمارے آم کی زندگی محض چند دن کی ہوتی ہے اس لیے ہمارے کاشتکاروں اور برآمد کنندگان اسکی اچھی قیمت وصول نہیں کرپاتے۔

زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ:

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر صرف ضاٰئع ہو جانے والے آم کو گودے میں تبدیل کردیا جائے تو اس سے 500 ملیں ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔ جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہماری کل پیداوار ہمیں کتنا زرمبادلہ کما کر دے سکتی ہے۔

آم کے گودے کی مانگ:

آم کے گودے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک و بیرون ملک اس کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ مقامی سطح پر پھلوں کے جوس اور دوسری مصنوعات کی صنعت نے پچھلے پانچ برس میں زبردست ترقی کی ہے جس کے سبب پھلوں کی گودے کی مانگ اس عرصے میں بہت زیادہ بڑھی ہے۔

آم کے گودے کی غذائی اہمیت:

ماہر غذا ڈاکٹر نجمہ کے مطابق آم کا گودا غذایت سے بھر پور ہوتا ہے جس کے اندر وٹامن سی ، وٹامن اے، فائبر، کارٹینائیڈز اور پولی فینائل شامل ہوتے ہیں۔

گودا بنانے کا رواِئتی طریقہ نقصان دہ:

روایتی طور پر گودا پھل کے مواد اور بیجوں کو الگ کرنے کے بعد کیمیکل کی ملاوٹ سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جس سے اسکی عمر چھ ماہ ہوجاتی ہے۔ ماہرین اس طریقہ کو مضر صحت قرار دیتے ہیں۔

ایسپیٹک طریقے سے گودے کی تیاری:

اس طریقے میں پھل کا مواد اور بیج آٹومیٹک طریقے سے الگ کیے جاتے ہیں اور گودے کو اینزائم ڈی ایکٹویشن، ریفائننگ، ہوموجینائزنگ، اور سٹیرلائزیشن کے عمل سے گزارنے کے بعد سٹیرلائز کیے ہوئے بیگز میں محفوظ کیا جاتا ہے.

یہ تمام عمل مکمل آٹومیٹک ہوتا ہے اور اس سے پراڈکٹ یعنی گودے کی عمر 24 ماہ ہوجاتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here