چینی کمپنیوں نے پاکستان کو کورونا سے نمٹنے کے لیے 35 ٹن میڈیکل سامان عطیہ کیا

318

بیجنگ: چین میں پاکستانی سفیر نغمانہ عالمگیر ہاشمی نے کہا ہے کہ چینی کمپنیوں، فاؤنڈیشنز اور شہریوں نے کورونا وائرس کے خلاف پاکستان کی امداد کے لیے 35 ٹن ہنگامی ریلیف سپلائز فراہم کی ہیں۔

انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ “چین بغیر کسی شک کے ہمارا دوست ہے اور پاکستان کے ہر مشکل وقت میں ساتھ دیتاہے۔ ہماری اپیل کے بعد چینی کمپنیاں اور شہری ہماری مدد کر رہے ہیں”۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے میں ابھی تک چینی کمپنیوں نے پاکستان کو 20 ٹن ہنگامی ریلیف سپلائی دی ہے۔ دوسری جانب چین میں پاکستانی قونصل خانے کو بھی وینٹی لیٹرز سمیت 15.5 ٹن ہنگامی میڈیکل سامان دیا گیا ہے۔

نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ مزید ڈونیشنز اکٹھی کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور امید ہے آئندہ کچھ دنوں میں چین کی جانب سے مزید میڈیکل سامان بھی عطیہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

چین نجی سرمایہ کاری کے فروغ، نئی تعمیراتی سرگرمیوں کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے پرعزم

وبا کے دِنوں میں آن لائن خریداری میں اضافہ، پاکستان چین کے تجربے سے کیا سیکھ سکتا ہے؟

کوشش کر رہے ہیں کورونا وائرس کا پاک چین تجارت پر اثر نہ پڑے

کیا پاکستانیوں کے کورونا ٹیسٹ غیر تصدق شدہ کٹس سے ہو رہے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ “ہم یہ ہنگامی سامان پاکستان کو خصوصی طیاروں کے ذریعے روانہ کرنا شروع کریں گے جسے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حوالے کیا جائے گا”

یہ مدِ نظر رہے کہ چینی حکومت نے کورونا وائرس کے خلاف پاکستان کی مدد کے لیے ابھی تک ٹیسٹنگ کٹس، ماسکس، حفاظتی کپڑے اور وینٹی لیٹرز اور دیگر ہنگامی سامان عطیہ کیا ہے۔

مزید یہ کہ چینی شہر ژن ژیانگ سے میڈیکل سامان روانہ کیا گیا۔ معروف چینی آن لائن علی بابا گروپ نے بھی پاکستان کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے میڈیکل سامان عطیہ کیے تھے۔

بہت سے چینی شہروں اور صوبوں نے ریڈ کراس سوسائٹی کے اشتراک سے بھی پاکستان کو میڈیکل سامان دیا گیا۔

اس کے علاوہ چینی حکومت پاکستانی اتھارٹیز کی عارضی ہسپتالوں کے قیام کے لیے بھی معاونت کر رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں بھی عارضی ہسپتال کی تعمیر شروع کی گئی۔

کورونا وائرس کے خلاف لڑائی کے تجربات کا پاکستان سے تبادلہ کرتے ہوئے چین کی جانب سے پاکستانی ہیلتھ اتھارٹیز کو وائرس کے خلاف حکمتِ عملی بنانے کے لیے ویڈیو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

چینی طبی ماہرین کی ٹیم بھی پاکستان کے دورے پر ہے تاکہ وبا کی روک تھام کے لیے مشاورت، مریضوں کا علاج، لیبارٹری میں کام اور پاکستانی میڈیکل سٹاف کی رہنمائی اور تربیت کی جاسکے۔ چینی ٹیم اس وقت اسلام آباد میں ہے اور دو ہفتوں کے لیے پاکستان میں قیام کرے گی جبکہ صوبہ سندھ اور پنجاب کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here