پاکستان میں کورونا سے مزید پانچ جاں بحق، ہلاکتیں 33، مریضوں کی تعداد 2386 ہو گئی

263

لاہور: پاکستان میں کورونا وائرس سے آج (جمعرات) مزید 5 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 33 ہوگئی جب کہ مزید کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 2386 تک جا پہنچی ہے، اب تک 117 افراد وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

کورونا وائرس سے ہونے والی سب سے زیادہ پنجاب میں 11، سندھ میں 10، خیبرپختونخوا میں 8، گلگت بلتستان میں 3 اور بلوچستان میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔

چین سے مزید طبی سامان کی آمد

قومی ائیرلائن کا پہلا 777 طیارہ جمعرات کی صبح چین سے مزید 14 ٹن سامان لے کر اسلام آباد پہنچ گیا۔

ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق 100 تھرمل اسکینر اور ذاتی حفاظت کاسامان منگوایا گیا ہے۔

ترجمان نےبتایا کہ حفاظتی سامان میں تقریباً 9 لاکھ ماسک، 60 ہزارحفاظتی عینکیں  اور 3300 سے زائد حفاظتی سوٹ ہیں، اس کے علاوہ ڈھائی لاکھ دستانے، تھرمامیٹر اور دوسرے حرارت پیما آلےشامل ہیں۔

بین الاقوامی پروازیں جزوی بحال، ملکی پروازوں پر پابندی میں توسیع

حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کو  جزوی طور پر بین الاقوامی فلائٹ آپریشن بحال کرنے کی اجازت دے دی جبکہ ہر قسم کی ملکی (ڈومیسٹک) پروازوں کی معطلی کو 11 اپریل تک توسیع دینے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر امور ہوابازی غلام سرورخان کی خصوصی کاوشوں سے وزیر اعظم عمران خان نے پروازوں کی بحالی کی منظوری دی ہے۔

ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں کینیڈا اور برطانیہ کے لیے کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے پروازیں چلائی جائیں گی جن کے ذریعے محدود مسافروں کو واپس لایا جائےگا۔

حکومت نے 26 مارچ کو ہر قسم کی مقررہ اور غیر مقررہ ملکی پروازیں، چارٹرڈ اور نجی طیاروں کی مسافر پروازیں 2 اپریل تک کے لیے معطل کی تھیں۔

ایوی ایشن ڈویژن کے مطابق اب حکومت نے ہر قسم کی ملکی پروازوں کی معطلی کا دورانیہ 2 اپریل سے بڑھا کر 11 اپریل کردیا ہے۔

تاہم اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گلگت اور اسکردو ایئرپورٹس تک پروازوں کی آمدو رفت معمول کے مطابق جاری رہے گی۔

خیبر پختونخوا میں بھی باجماعت نمازوں پر پابندی

خیبرپختونخوا حکومت نے مساجد میں منعقد ہونے والے اجتماعات پر پابندی کی ہدایات جاری کردی ہیں اور کورونا وائرس کے سبب سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے پانچ یا اس سے کم افراد کو نماز کی ادائیگی کی اجازت ہو گی۔

صوبائی محکمہ برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری نے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے سبب تمام مکاتب فکر کے علما اور اسکالرز سے رائے طلب کی گئی جنہوں نے متفقہ طور پر فتویٰ جاری کیا کہ اگر طبی وجوہات کے سبب حکومت مناسب سمجھے تو وہ مسجد میں اجتماعی نماز ادا کرنے والوں کی تعداد کو محدود کرسکتی ہے۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق دوسرے لوگ اپنے گھروں پر نماز پڑھیں گے اور یہ حکم فوراً نافذ العمل ہوگا اور اگلے احکامات تک تمام جماعتوں پر اطلاق ہوگا۔

گزشتہ ہفتے کے اوائل میں سندھ اور بلوچستان نے اجتماعی نمازوں پر پابندی عائد کردی تھی۔

خیبر پختونخوا حکومت کو 5 ایمبولینسز عطیہ

اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے ‘یو این ایچ سی آر’ نے خیبر پختونخوا (کے پی) حکومت کو 5 ایمبولینسز عطیہ کردیں جو تمام ضروری مشینوں سے لیس ہیں۔

یواین ایچ سی آر سے جاری بیان کے مطابق پشاور میں قائم ذیلی دفتر کے سربراہ برنارڈ انکوم نے جدید طبی آلات سے لیس 5 ایمبولینسز کو صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے حوالے کردیا۔

یواین ایچ سی آر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث یو این ایچ سی آر نے اپنی حکومت سے تعاون کی کوششوں کو دگنا کردیا ہے تاکہ ہنگامی بنیادوں پر متاثرین کو منتقل کرنے میں مدد ہو۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here