‘حکومتی نا اہلی کے باعث ٹیکس ریونیو کا شارٹ فال ایک کھرب روپے ہوسکتا ہے’

کم ٹیکس اکھٹا کرنے کا اثرصوبوں پر پڑے گا، حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دسمبر سے اب تک تک ایف بی آر کا کوئی چئیرمین نہیں ہے: محمد زبیر

295

لاہور:  سابق گورنر سندھ اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ریونیو اہداف پورا نہ کرپانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

محمد زبیر جو کہ نج کاری کمیشن کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں نے نشاندہی کی کہ جولائی سے مارچ کے عرصے میں ٹیکس ریونیو میں 704 ارب کا شارٹ فال سامنے آیا ہے۔

پرافٹ اردو سے گفتگو میں انکا کہنا تھا کہ حکومت اس ٹیکس ریونیو میں شارٹ فال کا ذمہ دار کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی معاشی صورتحال کو قرار دے گی مگر یہ حقیقت نہیں ہے۔ مارچ کی 15 تاریخ تک کاروبار معمول کے مطابق چل رہا تھا۔

انکا کہنا تھا کہ جب اس برس بجٹ کا اعلان کیا گیا تو مسلم لیگ ن نے ٹیکس کلیکشن ہدف سے 700 سے آٹھ  سو ارب روپے کم ہونے کے خدشے کا اظہار کیا تھا لیکن  مالی سال کے چھ ماہ میں حکومت کی بد ترین کارکردگی سے خدشہ ہے کہ ٹیکس ریونیو ہدف سے  1 کھرب روپے کم ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے:

5.2 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف کیسے پورا ہوگا؟ ایف بی آر معجزے کا منتظر

ریونیو ہدف پورا کرنے کے لیے ایف بی آر کو تین ماہ میں 2.2 کھرب روپے جمع کرنا ہوں گے

نئی آٹو کمپنیوں کا کورونا وائرس کے باعث نقصان سے بچنے کے لیے ٹیکس ریلیف کا مطالبہ

انہوں نے اس صورتحال کو خوفناک قرار دیتے ہوئے حکومت سے اپنے اخراجات ہر ممکن حد تک کم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ قرض لینے کی شرح اور خسارے کو قابو کیا جاسکے۔

انکا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں مسلسل کمی ہورہی ہےاور ہاٹ منی لانے کی پالیسی اب ہمیں نقصان پہنچا رہی ہے۔

محمد زبیر کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے کم ٹیکس اکھٹا کرنے کا اثرصوبوں پر پڑے گا کیونکہ اس  کی وجہ سے انہیں وفاق کی جانب سے کم رقم منتقل ہوگی اور نتیجے میں وہ صحت، تعلیم اور فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کم رقم خرچ کریں گے۔

انکا کہنا تھا کہ حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دسمبر سے ابتک ایف بی آر کا کوئی چئیرمین نہیں ہےجبکہ گزشتہ برس بھی ایف بی آر چئیرمین کو اپریل میں تبدیل کیا گیا جو کہ اس تبدیلی کے لیے سب سے غلط وقت تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس کا ہماری معیشت کی زبوں حالی میں کردار بہت کم ہے کیونکہ بربادی کا آغاز تو اس وبا کے پھوٹنے سے بہت پہلے ہو چکا تھا ۔

انہوں نے حکومت کی اہلیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر وہ معمول کے حالات میں معیشت کو سنبھال نہیں سکتی تو وائرس کے بعد کیسے سنبھال پائے گی؟

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here