ایف بی آر نے فاسٹر نظام کے تحت 56 ارب روپے کے ریفنڈز منظور کرلیے

جولائی 2019 سے لیکر 59 ارب کے ریفنڈ کیسز میں سے اب تک 56 ارب کے ریفنڈز کو منظور کیا جا چکا ہے جو فائل شدہ ریفنڈ کیسز کا تقریبا 95 فیصد بنتے ہیں

346

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریوینیو(ایف بی آر) نے فاسٹر نظام کے تحت 56 ارب روپے کے ریفنڈز منظور کرلیے۔

ایف بی آرکی جانب سے کردہ تفصیلات کے مطابق فاسٹر خود کار نظام کے تحت کے تحت جولائی 2019 سے لیکر 59 ارب روپے کے ریفنڈ کیسز فائل کئے گئے جن میں سے اب تک 56 ارب کے ریفنڈ کیسز کو باقاعدہ طور پر منظور کیا جا چکا ہے جو کہ فائل شدہ ریفنڈ کیسز کا تقریبا 95 فیصد بنتے ہیں۔

صرف مارچ 2020 ء میں ایف بی آر نے 25 ارب روپے کے ریفنڈز منظور کئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

ریونیو ہدف پورا کرنے کے لیے ایف بی آر کو تین ماہ میں 2.2 کھرب روپے جمع کرنا ہوں گے

ایف بی آر نے گڈز ڈیکلیریشن فائل کرنے کی مدت میں 25 دن توسیع کر دی

5.2 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف کیسے پورا ہوگا؟ ایف بی آر معجزے کا منتظر

ایف بی آر کے مطابق فاسٹر نظام کے تحت برآمدکنندگان کے سیلز ٹیکس ریفنڈ کیسز کو تیز رفتار خودکار طریقے سے پراسیس کیا جاتا ہے۔ فاسٹر کا نظام ٹیکس سال جولائی 2019 ءسے فعال ہے۔

ترجمان ایف بی آرنے بتایا کہ ایف بی آر کی حتی الامکان کوشش ہے کہ برآمد کنندگان کے ریفنڈز کو وقت پر ادا کر دیا جائے تا کہ ان کو کیش سے متعلق مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ایف بی آرکی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جولائی 2019ءمیں 4.090 ارب روپے مالیت کے 1133 کلیمزداخل کئے گئے، جن میں سے 3.451 ارب روپے کے کلیمز منظورکئے گئے، 34 کیسز انڈرپراسیس ہیں،اگست میں 6.584 ارب روپے کے 1313 کلیمز موصول ہوئے جن میں سے 5.403 ارب روپے کے کلیمز منظورکئے گئے۔

ستمبر میں8.097 ارب روپے مالیت کے 1381 کلیمرموصول ہوئے جن میں سے 6.973 ارب روپے کے کلیمز منظورکئے گئے، اکتوبرمیں 9.953 ارب روپے مالیت کے 1362 کلیمز موصول ہوئے اور 8.627 ارب روپے کے کلیمز کی منظوری دی گئی۔

نومبر میں 10.612 ارب روپے کے 1204 کلیمز موصول ہوئے جن میں سے 9.554 ارب روپے کے کلیمز منظورہوئے، دسمبرمیں 10.854 ارب روپے مالیت کے 1024 کلیمز موصول ہوئے اور9.938 ارب روپے کے کلیمز منظورکئے گئے۔

جنوری میں 7.670 ارب روپے کے 548 کلیمز موصول ہوئے اور7.225 ارب روپے کے کلیمز کی منظوری دی گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here