امریکا میں کورونا وائرس کے باعث 66 لاکھ سے زیادہ ورکرز بے روزگار

98

لاہور: امریکی محکمہ لیبر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث ملک بھر میں کاروباری اداروں کی بندش کی وجہ سے 66 لاکھ 50 ہزار مزید امریکی ورکرز نے گزشتہ ہفتے کے دوران بے روزگاری فوائد حاصل کرنے کے لیے درخواست دی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، 28 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران پہلی بار بے روزگاری فوائد حاصل کرنے کے لیے درخواست دینے والوں کی تعداد گزشتہ ہفتے رجسٹرڈ ہونے والے ورکرز کی نسبت دگنا تھی جو 24 ہزار سے بڑھ کر 33 لاکھ ہوئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق، قریباً ہرریاست کورونا وائرس کا حوالہ دیتے ہوئے تبصرہ کر رہی ہے جس کے اثرات صنعتوں کی ایک بڑی تعداد اور بالخصوص ہوٹلوں جب کہ مینوفیکچرنگ اور ریٹیل کے شعبوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: فورڈ اور جنرل الیکٹرک کا چار جولائی تک پچاس ہزار وینٹی لیٹر بنانے کا اعلان

یہ صورتِ حال ماہرین معاشیات کے اندازوں سے کہیں زیادہ پریشان کن ہے  اور اس سے وبا کے امریکی معیشت پر بڑھتے ہوئے اثرات کی عکاسی ہوتی ہے جیسا کہ عالمی وبا میں شدت آ رہی ہے اور اموات میں اضافے کے باعث مزید ریاستیں لاک ڈائون کر رہی ہیں۔

وہ شہر جہاں کبھی چہل پہل ہوا کرتی تھی، اب وہاں ویرانی چھائی ہوئی ہے کیوں کہ کورونا وائرس کے باعث عائد کی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے دکانیں، ریستوران اور دفاتر بند ہیں اور محض گراسری سٹورز اور ہسپتال ہی سرگرمیوں کا مرکز ہیں۔

کچھ ماہرینِ معاشیات دوسری جنگِ عظیم کے بعد بدترین بے روزگاری کی پیشگوئی کر رہے ہیں جب کہ ملک پہلے ہی بدترین مالی بدحالی کا شکار ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کا دو ٹریلین کا ہنگامی پیکیج، سٹاک منڈیوں میں کاروباری سرگرمیوں میں 10  فی صد تک اضافہ

گزشتہ برس کے اسی ہفتے کے دوران دو لاکھ 11 ہزار لوگوں نے بے روزگاری فوائد کے حصول کے لیے پہلی بار درخواست جمع کروائی تھی۔

وہ تجزیہ کار بھی پریشان ہیں جو ہولناک اعداد و شمار کے خدشات ظاہر کر رہے تھے۔

پینتھیون میکرواکنامکس سے منسلک آئن شیفرڈسن کہتے ہیں کہ موجودہ صورتِ حال کو بیان کرنے کے لیے موزوں الفاظ دستیاب نہیں۔

یاد رہے کہ امریکی حکومت نے گزشتہ ہفتے 22 سو کھرب روپے کے ریسکیو پیکیج کا اعلان کیا تھا جس میں بے روزگاری فوائد کو بڑھایا گیا تھا تاکہ بے روزگار ہونے والے لاکھوں ورکرز کو مدد حاصل ہو سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here