نئی آٹو کمپنیوں کا کورونا وائرس کے باعث نقصان سے بچنے کے لیے ٹیکس ریلیف کا مطالبہ

443

لاہور: پاکستان کے آٹو سیکٹر میں بشمول نشاط ہنڈائی موٹرز پاکستان لمیٹڈ(این ایچ ایم پی ایل) اور کِیا لکی موٹرز پاکستان لمیٹڈ (کے ایل ایم پی ایل) نے حکومت سے درآمدی مرحلے میں سیلز ٹیکس میں چھوٹ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

پاکستان ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے کے ایل ایم پی ایل کے چیف آپریٹنگ آفیسر(سی او او) محمد فیصل نے کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال میں بہتری تک آٹو سیکٹر میں نئی آنے والی کمپنیوں کو ان پٹ سیلز ٹیکس میں مکمل طور پر چھوٹ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “جیسا کے انوینٹریز میں اضافہ ہو رہا ہے اور فروخت نظر نہیں آ رہیں، حکومت کو ہماری طرح نئے آنے والوں کو ان پٹ پر سیلز ٹیکس میں مکمل چھوٹ دینی چاہیے”۔

فیصل سے اتفاق کرتے ہوئے این ایچ ایم پی ایل چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) نوریز عبداللہ نے مزید کہا کہ حکومت کو پہلے سے ان پٹ کی مد میں لیا جانے والا سیلز ٹیکس واپس اور درآمدی مرحلے پر ان پٹ سیلز ٹیکس میں رعایت کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان میں گاڑیوں کی مینو فیکچرنگ کیلئے قومی پالیسی کی تشکیل پر دو وزارتوں میں رسہ کشی

کورونا وائرس کے باوجود ہنڈائی نے نئی سیڈان گاڑیاں متعارف کروا دیں

کورونا وائرس، مری بریوری کی محکمہ ایسائز سے سینی ٹائزرز کی مینوفیکچرنگ کے لیے لائسنس کی درخواست

عبداللہ نے کہا جہاں تک گرین فیلڈ آٹو مینوفیکچرنگ کا تعلق ہے، کمپنی حکومت سے سیلز ٹیکس ریفنڈ کی اجازت کی درخواست کرے گی جو تعمیری مرحلے سے باہر آ گئی ہیں اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے بُری طرح متاثر ہونے سے معاشی بحران سے بچنے کی کوشش میں ہیں۔

عبداللہ نے مزید کہا کہ “ریفنڈز واپس کرنے سے مذکورہ شعبے کو درپیش لیکویڈیٹی بحران میں آسانی پیدا کرنے میں بڑی مدد ملے گی، جس کی وجہ سے موجودہ حالات میں بینکوں سے کام کرنے لیے سرمایہ لینا مشکل ہو گیا ہے”۔

انہوں نے ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی سست روی کے درمیان نئے ماڈلز کی رونمائی میں توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔

سی ایف او نے مزید کہا کہ ملک میں آٹو پالیسی  نئے ماڈلز کی رونمائی کے دورانیے کو پابند کرتی ہے۔ “لہذا، ہم حکومت سے درخواست کریں گے کہ آٹو پالیسی کے تحت جون 2021 تک اس مدت کو پنجاب میں لاک ڈاؤن  کی مدت کے برابر یا فضائی حدود کی بندش تک توسیع کی جائے”۔

انہوں نے آگاہ کیا کہ غیر ملکی ٹیکنیکل مشیر کی آمد لاک ڈاؤن اور فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے تاخیر ہوئی جبکہ مارکیٹوں کی بندش کی وجہ سے منصوبے سے متعلق اہم سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here