ملازمین کی نوکریاں بچانی ہیں تو لاک ڈاون میں کام کرنے دیا جائے : کیمیکل انڈسٹری

انڈسٹری نہ چلی تو لاکھوں ملازمین بے روزگار ہوجائیں گے، ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی ادائیگی بھی ممکن نہیں رہے گی : چئیرمین پی سی ایم اے

321

لاہور: پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم عمران خان پر زور دیا ہے کہ کیمیکل کی صنعت کو لاک ڈاون میں کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

اس اقدام کا مقصد صنعت سے وابستہ ملازمین کو معاشی بحران سے بچانا ہے۔

 پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کےچئیرمین ابرار احمد اور سیکرٹری اقبال قدوائی کا مشترکہ پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ اگر لاک ڈاون 5  اپریل تک جاری رہا تو انڈسٹری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور کساد بازاری کی صورتحال پیدا ہوجائے گی جس سے لاکھوں ملازمین کی نوکریاں ختم ہوجائیں گی ۔

انکا کہنا تھا کہ اگر صورتحال جوں کی توں رہتی ہے تو اس سے انڈسٹری میں ہونے والی اربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی برباد ہوجائے گی ۔

یہ بھی پڑھیے: 

کورونا وائرس، لاک ڈائون سے پاکستان میں کساد بازاری کا خدشہ

کورونا وائرس: پاکستان میں 94 افراد صحت یاب، مریضوں کی تعداد 2112 ہوگئی

کورونا وائرس : فورڈ اور جنرل الیکٹرک کا چار جولائی تک پچاس ہزار وینٹی لیٹر بنانے کا اعلان

چئیرمین  پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن ابرار احمد نے وزیراعظم کے ریلیف پیکج کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو غریب اور بے روزگار طبقے کی مزید مدد کرنی چاہیے۔

وزیراعظم کے بیان کہ ملک کی پچیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہتی ہے کا حوالہ  دیتے ہوئے ابرار احمد کا کہنا تھا کہ اسکا مطلب یہ ہے کہ 5  کروڑ  55 لاکھ افراد کو حکومت کی امداد کی ضرورت ہے۔

انکا کہنا تھا کہ لاک ڈاون جاری رہنے کی صورت میں حکومت کے لیے ان افراد کی مدد کرنا نا ممکن ہوجائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر انڈسٹری نہ چلی تو صنعت کاروں کے لیے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی ادائیگی نہ ممکن ہوجائےگی ۔

انکا کہنا تھا کہ  ایسے حالات میں حکومت کا قرض لیکر نظام چلانے کی کوشش ملک کو غربت کے جال میں پھنسا دے گا ۔

انکا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے لیے یہی وقت ہے کہ وہ انڈسٹری کو دوبارہ کام کرنے کی اجازت دے دے تاکہ ملازمین  کے لیے روزگار اور حکومت کے لیے ریونیو اکٹھا کیا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here