ریونیو ہدف پورا کرنے کے لیے ایف بی آر کو تین ماہ میں 2.2 کھرب روپے جمع کرنا ہوں گے

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی بھرپور کوشش کے باوجود مالی سال 2020 میں ریونیو کی مد میں 4500 سے 4600 ارب روپے ہی اکٹھے کیے جا سکیں گے: ذرائع

282

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو 5.23 کھرب روپے کا ریونیو ہدف پورا کرنے کے لیے مالی سال کی آخری سہ ماہی یعنی اپریل سے جون تک کے عرصے میں 2.19 کھرب روپے اکٹھا کرنے ہوں گے۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے جولائی تا مارچ کے عرصے میں 3 ہزار 50 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا اور اب اسے ریونیو کا سالانہ ہدف پورا کرنے کے لیے 2.2 کھرب روپے مزید اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔

موجودہ مالی سال کے لیے ریونیو کا ہدف 5 ہزار  550  ارب رکھا گیا تھا مگر بعد میں  نظر ثانی کرکے آئی ایم ایف کی اجازت کے بعد اس میں کمی کردی گئی تھی ۔

یہ بھی پڑھیے:

5.2 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف کیسے پورا ہوگا؟ ایف بی آر معجزے کا منتظر

برآمدات میں کمی کیوں ہوئی؟ وزارت کامرس کی دیگر وزارتوں ، ایف بی آر کیخلاف وزیراعظم کو شکایتیں

ایف بی آر نے گڈز ڈیکلیریشن فائل کرنے کی مدت میں 25 دن توسیع کر دی

تاہم ٹیکس حکام نے حالات کے پیش نظر ایک بار پھر اس پر نظر ثانی کی اور یہ ہدف 4 ہزار 800 ارب روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا جس کی درخواست تاحال آئی ایم ایف کے روبرو موجود ہے۔

ایف بی آر نے مارچ کے مہینے میں 320 ارب روپے اکٹھے کیے جو کہ فروری کی نسبت 10 ارب روپے زائد تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اگرچہ  ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نظر ثانی  شدہ ہدف پوری کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے لیکن اسے پورا کرنا ممکن نظر نہیں آرہا  اور امید کی جارہی ہے کہ اس سال 4500 سے 4600 ارب روپے کا ریونیو ہی اکٹھا ہو پائے گا۔

صورتحال کے پیش نظر حکومت کی معاشی ٹیم نے اگلے مالی سال کے لیے ریونیو کا ہدف 4 ہزار 780 ارب روپے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے قبل  ایف بی آر نے ٹیکس دینے والوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے ٹیکس وقت پر ادا کریں تاکہ حکومت کے ریونیو اہداف کو پورا کیا جاسکے۔

ایک بیان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا کہنا تھا کہ اسکا عملہ اور افسران کورونا وائرس کے خطرے کے باوجود دلجمعی سے کام کر رہے ہیں تاکہ حکومت کا ریونیو ہدف پورا کیا جا سکے۔

 تاہم  یہ  ٹیکس ادا کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ٹیکس وقت پر ادا کریں تاکہ حکومت حاصل ہونے والی رقم کو عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرسکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here