کیا پاکستانیوں کے کورونا ٹیسٹ غیر تصدق شدہ کٹس سے ہو رہے ہیں؟

199

اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے خبر دار کیا ہے مارکیٹ میں کورونا وائرس کی غیر تصدیق شدہ ٹیسٹنگ کٹس بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کے استعمال سے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں اس لئے ڈریپ کی طرف سے ان کٹس کی تصدیق تک بیرون ملک سے تصدیق شدہ کٹس ہی منگوائی جائیں۔

منگل کو اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ  میں صوبائی حکومتوں اور نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے )کوآگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ مارکیٹوں میں غیر تصدیق شدہ کورونا وائرس ٹیسٹنگ کٹس کی بھرمار ہے۔

اگر غیر تصدیق شدہ ٹیسٹ کٹ کے استعمال سے کسی متاثرہ شخص کو صحت مند قرار دے دیا گیا تو اسسے بہت سی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ جب تک ڈرگ ریگو لیٹری اتھارٹی (ڈریپ) پاکستان کی مقامی طور پر تیار کردہ کٹس کی تصدیق نہیں کر دیتی اس وقت تک صرف بیرون مملک سے صرف تصدیق شدہ کٹس ہی درآمد کرنی چاہیئں۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس، لاک ڈائون سے پاکستان میں کساد بازاری کا خدشہ

کورونا وائرس پاکستان کی معیشت کیلئے کس حد تک تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے؟ 

پاکستان میں کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک نے 20 لاکھ ڈالر کی منظوری دیدی

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ  درآمدشدہ کٹس میں تمام خصوصیات موجود نہیں، مریض کو صحت مند ظاہر کیا جائے تویہ تشویشناک ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیسٹ کا درست ہونا بھی ضروری ہے، ہمارےاپنےکٹس آجائیں تو یہ غیریقینی صورتحال ختم ہوجائےگی۔

دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی تشخیص کے لئے این ڈی ایم اے کے پاس آنے والی تمام ٹیسٹنگ کٹس چینی حکومت سے تصدیق شدہ ہیں۔

ترجمان این ڈی ایم اے نے کہا کہ یہ کٹس چین میں پاکستان کے سفارتخانہ کے ذریعے لائی جا رہی ہیں، اس لئے غیر تصدیق شدہ کٹس کے درآمد ہونے کا کوئی احتمال نہیں ہے۔

واضح رہے کہ چینی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹنگ کٹس، طبی آلات کی در آمد کا سلسلہ جاری ہے جب کہ چند روز قبل سامان کے ساتھ چینی ڈاکٹرز پر مشتمل ایک وفد بھی پاکستان پہنچا ہے جو ملکی ڈاکٹرز کو وائرس پر قابو پانے کے لیے رہنمائی کر رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here