کورونا وائرس ، کساد بازاری سے ایشیاء میں ایک کروڑسے زائد لوگ خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے: رپورٹ

ایشیاء اوربحرالکاہل کے خطے کے ممالک میں نمو کی شرح 2.1 فیصد اوربدترین حالات میں منفی 0.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے: عالمی بینک

176

اسلام آباد:  عالمی بنک نے مشرقی ایشیاء اوربحرالکاہل کے ممالک پرکوروناوائرس کی عالمگیروباء کے نتیجہ میں اقتصادی نقصانات کو کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے پرزوردیا ہے، عالمی بنک نے  صحت عامہ کے شعبہ میں فوری سرمایہ کاری  اور ہدف پرمبنی زری ومالیاتی اقدامات کی بھی سفارش کی ہے۔یہ بات عالمی بنک کی ماہ اپریل کیلئے اپ ڈیٹ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے ابتداء میں چین کی معیشت اورسپلائی چین پراثرات مرتب ہوئے تاہم بعدازاں اس کے اثرات پوری دنیاء میں پھیل گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مشرقی ایشیاء اوربحرالکاہل کے خطے کی معیشیتیں اب عالمی اقتصادی دھچکوں اورکسادبازاری کا سامناکررہی ہیں۔

 رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ یہ ایک غیرمعمولی صورتحال ہے اوراقتصادی مسائل کااب تمام ممالک کوسامناکرناپڑرہا ہے، اس صورتحال کے تناظر میں تمام ممالک کیلئے اب عملی اقدامات کرنے کاوقت آگیا ہے، ان  میں صحت عامہ کے شعبہ میں فوری سرمایہ کاری  اور مبنی بر اہداف  زری ومالیاتی اقدامات ضروری ہے تاکہ کورونا وائرس کی وباء سے اس خطے کے ممالک کی معیشیتوں پرپڑنے والے اثرات کوکم کیا جاسکے۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ  نئی صورتحال میں نمو کا  درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے تاہم ایشیاء اوربحرالکاہل کے خطے کے ممالک میں نمو کی شرح 2.1 فیصد اوربدترین حالات میں منفی 0.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔چین میں بیس لائن کی بنیاد پرنمو میں 2.3 فیصد کمی متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس: عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات، اسٹاک مارکیٹس کو 19 کھرب، ٹیکنالوجی کمپنیوں کو 300 ارب ڈالر نقصان

کورونا وائرس سے عالمی معیشت کو نقصان، لیکن ٹیکنالوجی کمپنیوں کے وارے نیارے

کورونا وائرس پاکستان کی معیشت کیلئے کس حد تک تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے؟ 

کورونا وائرس: ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کا آئی ڈی اے رکن ممالک سے قرض واپسی موخر کرنے پراتفاق

رپورٹ میں کہاگیاہے کہ  عالمگیر وباء پرقابوپانے میں جتنی جلدی کامیابی ملی گی اسی رفتارسے معشیتوں کی بحالی کاعمل شروع ہوگا تاہم مالیاتی مارکیٹوں کیلئے خطرات برقراررہیں گے۔

 رپورٹ میں کہاگیاہے کہ کوروناوائرس کی وباء کی وجہ سے تخفیف غربت کی کوششوں پربھی اثرات مرتب ہوئے ہیں، نئے اندازوں کے مطابق سال 2020ء میں خطے کے ممالک میں 5.50 ڈالر سے کم یومیہ آمدنی والے شہریوں کو غربت سے نکالنے کے جواندازے لگایئے گئے تھے ان میں اب 24 ملین کی کمی آئے گی۔

رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اگرصورتحال جاری رہی توخطے میں مزید11 ملین افراد خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔

اس رپورٹ میں جو سفارشات مرتب کی گئی ہیں ان میں صحت عامہ اور وباؤں وآفات سے نمٹنے کے شعبہ جات میں فوری سرمایہ کاری کی ضرورت پرزوردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں دانشمندانہ میکرواقتصادی پالیسیوں اورکمزورصحت عامہ کے نظام کوزرتلافی دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں وباء کے معیشیتوں پراثرات کوکم کرنے کیلئے سرحدوں کے آر پار پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ اورادویات وطبی سامان وآلات کی فراہمی میں آسانیوں کی ضرورت پرزوردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں کوقرضوں میں رعایت دینے سمیت کئی دیگراقدامات اٹھانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here