کورونا وائرس، وزارتِ خزانہ نے 2020-21 کے بجٹ کی تیاری منسوخ کر دی

137

اسلام آباد: وزارتِ خزانہ نے کورونا وائرس کے پیش نظر آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں منسوخ کر دی ہیں۔

وزارتِ خزانہ میں موجود ذرائع نے کہا ہے کہ “وزارت کی جانب سے مالی سال 2020-2021 کے مالی سال کی تیاریوں سے متعلق ہر طرح کی سرگرمیوں کو منسوخ کر دیا  گیاہے”۔

اقتصادی ٹیم نے رواں سال جنوری میں بجٹ سرکلر جاری کرنے کا کہا تھا جس کے بعد وزارتِ خزانہ نے وفاقی کابینہ سے تین سالہ درمیانی مدت کے بجٹ سٹریٹجی پیپر کی منظوری لی تھی۔

ذرائع نے کہا ہے کہ حکومت نے رواں سال مئی کے آخری ہفتے یا جون کے پہلے ہفتے بجٹ پیش کرنے کا منصوبہ کیا تھا لیکن موجودہ صورتحال کے باعث وزارتوں اور ڈویژن کی  جانب سے بجٹ کی تیاری ممکن نہیں ہے اس لیے بجٹ جاری کرنے میں تاخیر ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 1200 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی

سعودی عرب نے ہنگامی بجٹ کا اعلان کر دیا، خسارہ بڑھنے کا خدشہ

تمام کمپنیاں اپنا کارپوریٹ رسپانسبیلٹی بجٹ کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے مختض کریں،ایس ای سی پی 

آئی ایم ایف کا جی 20 ممالک سے ہنگامی بجٹ دگنا کرنے کا مطالبہ

درمیانی مدت کے بجٹ سٹریٹجی پہپر کے تحت، اقتصادی کمیٹی نے 700 ارب روپے سے 900 ارب روپے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام، احساس پروگرام کے لیے 300 ارب روپے کے لگ بھگ اور سول حکومت اور پینشنز کے لیے ایک کھرب روپے مختص کرنے کی تجویز کی تھی۔

مزید یہ کہ سٹریٹجی پیپر کے تحت سود کی رقوم کی ادائیگیوں کے لیے 3.3 کھرب اور دفاع کے اخراجات 1250 سے 1750 ارب روپے تک مختص کرنے کی تجویز کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ گرانٹس کے لیے ایک کھرب  روپے، سبسیڈیز کے لیے 270 ارب روپے، خیبر پختونخوا میں ضم کیے جانے والے اضلاع کی ترقی کے لیے 150 ارب روپے اور کسی بھی قسم کی تباہ کاریوں کے لیے 80 ارب روپے تجویز کیے تھے۔

درمیانی مدت کے رہنما اصولوں کے مطابق اقتصادی ٹیم پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام، اقتصادی ترقی، روزگار، آئی ایم ایف پروگرام، افراطِ زر اور قیمتوں پر قابو پانے، استحکام کی راہ پر گامزن رہنے اور بجٹ خسارے میں کمی کے ساتھ ساتھ عوامی قرض پر توجہ کرے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here