پی ٹی اے نے 24 کمپنیوں کو پاکستان میں موبائل فونز بنانے کی اجازت دے دی

فونز کی سمگلنگ میں کمی سے ملک میں اسمبلنگ کی خواہشمند کمپنیوں کی تعداد میں اضافہ، پاکستان اور چین کی کمپنیوں نے مشترکہ منصوبے شروع کردئیے

181

اسلام آباد:   موبائل فونز کی سمگلنگ میں کمی سے ملک میں موبائل فونز اسمبلنگ کی خواہشمند کمپنیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اب تک 24 کمپنیوں کو اندرون ملک موبائل فونز کی اسمبلنگ کی اجازت دی ہے۔

پاکستان اور چین کی کمپنیوں نے مشترکہ منصوبہ کے تحت اندرون ملک تھری جی اور فور جی موبائلز کی تیاری شروع کر دی ہے۔

چین کی کمپنی ٹرانسلیشن ہولڈنگز اور پاکستان کے ٹیکنو گروپ نے ٹرانسلیشن ٹیکنو الیکٹرانکس لمیٹڈ (ٹی ٹی ای) کے نام سے ایک مشترکہ کمپنی قائم کی ہے جس میں پاکستانی کمپنی کے 60 فیصد جبکہ چینی کمپنی کے 40 فیصد حصص ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

Infinix کا ‘‘میڈ اِن پاکستان ’’ سمارٹ فونز متعارف کرانے کا اعلان

چین کی سمارٹ فونز فروخت کرونا وائرس کے باعث آدھی رہ جانے کا امکان

75 فیصد پاکستانی موبائل فون ، 35 فیصد انٹرنیٹ، 17فیصد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں: رپورٹ

ٹی ٹی ای کے چیف ایگزیکٹو آفیسر آصف اللہ والا نے کہا کہ ٹی ٹی ای پاکستان میں تھری جی اور فور جی سمارٹ فونز تیار کرنے والی پہلی پاکستانی کمپنی ہے۔ کمپنی نے 800 سے زیادہ ہنرمند افرادی قوت کی ایک شفٹ کی مدد سے پہلے مرحلہ میں سالانہ 1.8 ملین سیٹ تیار کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افرادی قوت 30 سے کم عمر ہنرمندوں پر مشتمل ہے جو پیداواری عمل میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موبائل فونز کی سالانہ مارکیٹ کا حجم 366 ارب روپے ہے جبکہ آٹو سیکٹر کا سالانہ کاروباری حجم 360 ارب روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں موبائل فون سیٹوں کی صنعت کا حجم آٹو سیکٹر سے زیادہ ہے،شعبہ کی صلاحیتوں کے پیش نظر حکومت ایک جامع پالیسی مرتب کرے تاکہ اندرون ملک موبائل فونز کی اسمبلنگ میں اضافہ ہو۔

آصف اللہ والا نے مزید کہا کہ موبائل کی صنعت دنیا کی پانچ بڑی صنعتوں میں شامل ہے جس کا سالانہ کاروبار 552 ارب ڈالر ہے جبکہ دنیا بھر میں سالانہ 6 ارب موبائل فونز فروخت ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فونز کی تیاری کا مرکز چین ہے جو سالانہ 150 ارب ڈالر کی برآمدات کرتا ہے، پاکستان لیبر کا ماہانہ خرچہ 600 ڈالر جبکہ پاکستان میں 120 ڈالر ماہانہ پر سستی لیبر دستیاب ہے اس لئے مستقبل میں پاکستان چینی مینوفیکچررز کیلئے پرکشش ملک بن سکتا ہے۔

آصف اللہ والا نے کہا کہ موبائل فونز کی سمگلنگ میں کمی سے اندرون ملک سیٹوں کی تیاری میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھی ہے اور پی ٹی اے نے اب تک 24 کمپنیوں کو اس حوالہ سے اجازت بھی دی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here