سرمایہ کار اور کنگزوے کیپیٹل کا ‘دوائی’ سٹارٹ اپ میں سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

302

لاہور: ‘سرمایہ کار’ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ لندن سے تعلق رکھنے والی کمپنی’کنگز وے’ کے ہمراہ آن لائن ہیلتھ کئیر سٹارٹ اپ ‘دوائی’ میں سرمایہ کاری کریں گے۔

‘سرمایہ کار’ پاکستانی سٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کرتی ہے، اگرچہ سرمایہ کاری کی رقم کے بارے میں نہیں بتایا گیا، تاہم پرافٹ اردو نے تصدیق کی ہے کہ (پری-سریز B round) سات ہندسوں میں سرمایہ کاری کرے گی۔

دوائی ملک بھر میں بالخصوص آن لائن فارمیسی کاروبار سے کاروبار (ریٹیل فارمیسیز، میڈیکل سٹورز اور کاروبار)  اور کاروبار سے کاروبار کے حلقوں کے ساتھ فعال ہے۔

پاکستانی فارماسیوٹیکل منڈی کے حجم کا کم از کم تخمینہ تین ارب ڈالر ہے (ایک ارب سے زائد ڈالر کی جعلی مارکیٹ کے علاوہ)جو دو ہندسوں کی شرح میں ترقی کر رہی ہے۔ ادویات کی منڈی کے حجم اور ترقی کے باوجود مذکورہ شعبہ بہت سے ٹکڑوں میں ہے جس میں ذرا سی علاقائی چین اور ایک ہی جگہ پر بہت سے ریٹیلرز جعلی مصنوعات کے ساتھ ناکافی اور مہنگی سپلائی چین پر انحصار کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

حکومت نے ادویات کی سپلائی کو سنجیدہ نہ لیا تو بحران پیدا ہو سکتا ہے، فارما بیورو

کورونا وائرس، چین میں وینٹی لیٹرز کی پیداوار تیز

دوائی مینوفیکچررز اور قائم شدہ ڈسٹری بیوٹرز کو براہِ راست دوسری مصنوعات کی نسبت مستند ہونے کو یقینی بنانے اور لاجسٹکس فنکشن کو منظم کرنے کے ذریعے ملک بھر میں طلب پوری کرنے کے متبادل ایک سٹارٹ اپ ہے۔

لندن کے سابق سرمایہ کاری کے بینکار فرقان کدوائی نے 2013 میں دوائی سٹارٹ اپ پاکستان میں فارماسیوٹیکل لاجسٹکس کو ڈیجیٹلائز کرنے کے مشن سے متعارف کرائی تھی۔

ملک میں پیچیدہ فارماسیوٹیکل اور ریگولیٹڈ انڈسٹری کے درمیان ‘دوائی’ کے قیام کے طویل دورانیے کے بعد فرقان کا کاروبار کچھ بہتر دکھائی دیتا ہے کیونکہ دوائی کو ایک سال میں چھ گناہ سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

بڑھتے ہوئے حجم پر اُن مینوفیکچررز سے درخواست کی گئی ہے جنہوں نے پہلے اپنی مصنوعات کو ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچانے کی کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں دوائی کو مینوفیکچررز کو اپنی طرف مائل کرنے میں مدد ملی ہے۔

یہ لگتا ہے کہ دوائی کے لیے صارفین میں اضافہ کے چیلینج کی بجائے ملک بھر میں انوینٹری کی سپلائی اور لاجسٹکٹس کے آرڈرز کی تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔

فرقان کو یقین ہے کہ “ہیلتھ کئیر ہر شخص کی پہنچ اور قوتِ خرید میں ہونی چاہیے اور ایسا کرنے کے لیے ہم انفراسٹرکچر، سپلائی چین اور لاجسٹکس قائم کر رہے ہیں۔ جس طرح صارفین کی اشیائے ضروریہ تک پہنچ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور ہم ہیلتھ کئیر کی ضرورتوں میں بھی اسی رجحان کی توقع کر رہے ہیں۔ دوائی صارفین کی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے اپنے طور پر سمت متعین کرتی ہے۔ سرمایہ کار اور کنگزوے جیسے پارٹنرز سے سرمائے کی سپورٹ کے ساتھ ہم مؤثر انداز میں مارکیٹ کے حجم کو بڑھانے اور پاکستان کے ہیلتھ کئیر کے نظام کو نئی سطح تک لے جانے پر توجہ دے رہے ہیں”۔

‘سرمایہ کار’ کے بانی اور مینجنگ ڈائریکٹر رابیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ”فارماسیوٹیکل مصنوعات کو پاکستان بھر میں پہنچانا ایک لاجسٹیکل مسئلہ ہے جو پرائس کنٹرولڈ مارکیٹ میں مارجن پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس سے متوازی جعلی مارکیٹ کو پنپنے کا موقع ملتا ہے کیونکہ صارفین اصلی اور سستی ادویات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے ہیں”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here