کورونا وائرس، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 1200 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی

کمزوراورکم آمدنی والے طبقات کواشیائے خوردنوش رعایتی نرخوں پرفراہم کرنے کے ضمن میں یوٹیلیٹی سٹورزکارپوریشن کیلئے 50 ارب روپے کی منظوری

230
Adviser to the Prime Minister on Finance and Revenue Dr Abdul Hafeez Shaikh chairing a meeting of Economic Coordination Committee (ECC) of the Cabinet in Islamabad on January 20, 2020.

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے کورونا وائرس کی وباء سے نمٹنے کےلئے عوام اور مختلف شعبوں کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت کے 1200 ارب روپے مالیت کے اقتصادی پیکیج کی منظوری دیدی ہے۔

ای سی سی کا خصوصی اجلاس پیر کو یہاں وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد کورونا کی وبا سے نمٹنے کیلئے حکومت کے اعلان کردہ امدادی اقدامات کیلئے تمام ضروری تقاضوں کو پوراکرنا تھا۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 84 اے تحت کورونا وائرس کے اثرات کوکم کرنے کیلئے ہنگامی ریلیف فنڈز کے قیام کیلئے 100 ارب روپے کے ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں معاشرے کے کمزورطبقات کو احساس پروگرام کے تحت نقد امداددینے کے خصوصی پیکج کی منظوری دی گئی، اس پیکیج کے تحت ایک کروڑ20 لاکھ خاندانوں کو کفالت پروگرام اورضلعی انتظامیہ کی سفارش پر چار ماہ تک نقد امداد دی جائے گی، بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام سے استفادہ کرنے والوں کے علاوہ دیگر افراد کیلئے یہ معاونت ایک بارہوگی۔

یہ امداد کفالت کے شراکت داربنکوں بنک الحبیب اورالفلاح بنک کے ذریعے 12 ہزارروپے کی ایک قسط یا 6 ہزارروپے کے دواقساط میں بائیومیٹرک تصدیق کے بعد فراہم کی جائے گی۔

ای سی سی نے تخفیف غربت ڈویژن کو دونوں آپشن کی فیزایبلٹی پیش کرنے کی ہدایت کی، شراکت داربنکوں کوبرانچ لیس بنکنگ نیٹ ورکس کے ذریعے 72.9 ارب روپے کے اضافی فنڈز کی تقسیم کیلئے انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ اس مقصد کیلئے احساس کیش اسسٹنس پیکیج کو ضمنی گرانٹ کی فراہمی کی جائیگی۔

اجلاس میں وزارت صنعت وپیداوارکی جانب سے تفصیلی بریفنگ کے بعد ای سی سی نے صنعتی شعبے کے یومیہ مزدوروں کیلئے نقد مالی معاونت کے ضمن میں 200 ارب روپے کی امدادکی منظوری دیدی۔

کیش امداد یومیہ اجرت کرنے والے ان مزدوروں کو دی جائیگی جو کرونا کی وباء سے بے روزگارہوچکے ہیں، اجلاس کوبتایا گیا کہ اس کیٹگری میں 30 لاکھ ورکرز کا اندازہ ہے جنہیں 17500 روپے ماہانہ کی شرح سے ادائیگی کرنا ہوگی، اس مد میں ماہانہ اخراجات کاتخمینہ 52.5 ارب روپے ہے۔

ای سی سی نے صوبائی محکمہ ہائے محنت (لیبر) کومحنت کشوں کویہ معاونت فراہم کرنے کویقینی بنانے کی ہدایت کی جبکہ فنڈز کی فراہمی کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہو گی۔

ای سی سی نے اس ضمن میں محنت کے صوبائی محکموں کے ساتھ فوری مشاورت کرنے کی ہدایت کی تاکہ ضرورت مندوں کوامداد کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے معاشرے کے کمزوراورکم آمدنی والے طبقات کواشیائے خوردنوش رعایتی نرخوں پرفراہم کرنے کے ضمن میں یوٹیلیٹی سٹورزکارپوریشن کیلئے 50 ارب روپے کی منظوری دیدی۔

اجلاس کوبتایا گیاکہ کارپوریشن نے اس ضمن میں پاکستان پوسٹ فاونڈیشن لاجسٹک ڈویژن کے ذریعے 2 سے لے کر چار افراد پر مشتمل خاندان کیلئے 9 ضروری اشیاءپرمشتمل (تین ہزارروپے فی خاندان) پیکیج کی فراہمی کاابتدائی منصوبہ بنایا ہے۔کارپوریشن نے آئندہ دوتین ہفتوں میں ضروری اشیاء کی خریداری کا منصوبہ بھی ترتیب دیاہے۔

ای سی سی نے یوٹیلیٹی سٹورزکارپوریشن کوبی آئی ایس پی کے ڈیٹا سے استفادہ کرنے اور پیکیج کو زیادہ موثر بنانے کیلئے معاملہ دوبارہ ای سی سی میں لانے کی ہدایت کی تاکہ اصل مستحقین تک امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جاسکے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سیلزٹیکس وانکم ٹیکس ری فنڈز، ڈیوٹی ڈرابیک، اورکسٹمز ڈیوٹیز کی مد میں 10 سال سے زیرالتواءادائیگیوں کو یقینی بنانے کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیوکیلئے 75 ارب روپے کی منظوری دی، اس رقم سے 6 لاکھ 76 ہزار 55 افراد اوراداروں کو کیش کی بہتری میں مددملے گی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے معاشرے کے مختلف طبقات پرکرونا وائرس کے اثرات کو کم کرنے کیلئے مختلف اشیاءخوراک کی درآمداورفراہمی پر مختلف ٹیکسوں میں کمی کی منظوری دی۔ اجلاس میں دالوں کی درآمد پر 2 فیصد ایڈوانس ٹیکس کوختم کر دیا گیا۔

اسی طرح یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو برانڈ نام کے بغیر چائے، مصالحہ جات، خشک دودھ اورنمک فراہم کرنے والے افراد اورکمپنیوں کو اب 4.5 کی بجائے 1.5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینا ہوگا،اسی طرح کارپوریشن کو گھی، چینی، دالیں اورآٹافراہم کرنے والے افراد اورکمپنیوں کو 4.5 فیصد کی بجائے 1.5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینا ہوگا۔

ای سی سی نے سویابین آئل، کینولا آئل، پام آئل، سن فلاورآئل اوران چاروں آئل کے بیجوں پردوفیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی ختم کردی ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت تجارت کیلئے 30 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی، یہ گرانٹ ٹیکسٹائل کے ان برآمدکنندگان کوڈیوٹی ڈرابیک کی مد میں دی جائیگی جن کاکاروبارکروناوائرس کی عالمگیروباءسے اثرات سے متاثرہواہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سٹیٹ بنک 49 ارب روپے کے کلیمز کی ادائیگی کیلئے کام کررہاہے جن میں سے 40 ارب روپے مالیت کے کلیمز جون 2020ءتک کلئیرہوجائیں گے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان ریلویزکے اخراجات کوپوراکرنے کیلئے 6 ارب روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی، پاکستان ریلویزنے 19 مارچ سے مسافربردارٹرینوں کاآپریشن روک دیاہے، منظورشدہ گرانٹ 70 ہزار ملازمین کو تنخواہوں، مرمت، یوٹیلیٹی اخراجات، پلیٹ فارمز اورٹرینوں کے اندر پرجراثیم کش سپرے پرخرچ ہوگی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here