کورونا وائرس: سٹیٹ بنک نے کراس چیک کلئیر کرنے کی پالیسی تبدیل کردی

نئی پالیسی کے تحت وصول کنندہ کراس چیک ادائیگی کرنے والے کے بنک میں جمع کرواسکے گا، فنڈز کی منتقلی48گھنٹوں کے بجائے درخواست دیے جانے کے دن ہی ہوسکے گی۔

159

کراچی : اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے چیک کلئیرنس کے وقت میں خاطرخواہ کمی کردی ۔

 مرکزی بنک کے پیمنٹ سسٹمز ڈیپارٹمنٹ کے سرکلر نمبر 4  کے مطابق اب بینفشری یعنی رقم حاصل کرنے والا  کراس چیک اپنی بنک کےبجائے براہ راست رقم دینے والے کی بنک میں جمع کرواسکے گا۔

اسکا مطلب یہ ہے کہ  اسٹیٹ بنک نے اب بینفشری کے بنک کو چیک کلئیرنگ سسٹم سے نکال دیا ہے ۔ یعنی اب کوئی بھی بینفشری چیک دینے والے کے بنک کو اپنے اکاونٹ کی تفصیل بتا کر مطلوبہ رقم اپنے اکاونٹ میں منتقل کروا سکے گا اور اب روائیتی  طور پر 48 گھنٹے  میں منتقل ہونے والے فنڈز درخواست دیے جانے والے روز ہی ٹرانسفر ہوجایا کریں گے۔

اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے یہ اقدام کورونا وائرس سے بچاو کی احتیاطی  تدبیر کے طور پر اٹھایا ہے کیونکہ ایسا  کرنے سے لوگوں کے میل جول میں کمی آئے گی اور سماجی دوری کی ضرورت پر بھی عمل ہوتا رہے گا۔

ادھر بنک بھی لوگوں کے درمیان میل جول کو کم کرنے کے لیے چیک کلئیر کرنے والے ادارے NIFT سے چیک بذریعہ تصویر کلیر کرنے کی درخواست کرسکیں گے۔

اسٹیٹ بنک کے مطابق فنڈز مختلف آن لائن فنڈز ٹرانسفر سروسز کے ذریعے منتقل کیے جاسکیں گے جیسا کہ رقم وصول کرنے اور رقم جاری کرنے والے کا  ایک ہی بنک کا صارف ہونے کی صورت میں بنک کا اپنا آن لائن سسٹم اور پرزم کا MT102 سسٹم۔

نئے طریقہ کار کے تحت رقم جاری کرنے والے کے بنک  کےلیے فنڈز ٹرانسفر کرنے سے پہلے اپنے صارف سے فون کال پر اسکی تصدیق کرنا لازم ہوگا۔ اسی طرح رقم وصول کرنے والے کا بنک بھی اپنے صارف کے بنک میں رقم منتقل کرنے سے پہلے اسکے کوائف کی تصدیق کرنے کا پابند ہوگا ۔

ترجیحی اور کارپوریٹ صارف ادائیگیوں کے لیے اب چیک کی سکین شدہ تصاویربھی رجسٹرڈ ای میل اکاونٹ کے ذریعے بنکوں کو بجھوا سکیں گے اور بنک تصدیق کے بعد فنڈز وصول کنندہ کو پرزم کے MT102 سسٹم کے ذریعے ٹرانسفر کرسکیں گے۔

اسٹیٹ بنک کا یہ نیا اقدام بنکوں کو ڈیجیٹلائز کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے اور اسکا ایک مقصد کورونا وائرس کی وبا کے دوران لوگوں کے درمیان میل جول کو کم کرنا ہے۔

واضح رہے اس سے قبل مرکزی بنک نے 18مارچ کو آن لائن بنک ٹرنسفر پر تمام چارجز ختم کردیے تھے اور بنکوں کو 23مارچ کو اپنی برانچیں کھلی رکھنےکی ہدایت کی تھی۔

کراس چیک کے حوالے سے مرکزی بنک کی جانب سے جاری کیے جانے والے سرکلر میں جہاں بنکوں کو نئی پالیسی  سے آگاہ  کیا گیا ہے وہیں انہیں سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے محتاط اور ہوشیار رہنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here