پاکستان میں گاڑیوں کی مینو فیکچرنگ کیلئے قومی پالیسی کی تشکیل پر دو وزارتوں میں رسہ کشی

وزارتِ صنعت وپیداوار نے 'آٹو موبائل سٹینڈرڈ' ریگولیشنز بنانے پر وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی مخالفت کردی، مشیر تجارت کے بھی اعتراضات

301

اسلام آباد: وزارتِ صنعت و پیداوار نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے پاکستان میں گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ کے قومی سطح کی پالیسی تشکیل دینے کی مخالفت کر دی ہے۔

اندرونی ذرائع کے مطابق وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس کے دوران آگاہ کیا کہ ان کی وزارت نے پاکستان سٹینڈرز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کے ذریعے گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ کے حوالے سے قومی سطح کی پالیسی متعارف کرانے کی کوشش کی، اس حوالے تمام انتظامات کیے گئے، تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی اجلاس ہوئے تاہم اس پر اعتراضات سامنے آگئے۔

 اس پر اعتراض کرتے ہوئے مشیرِ تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ آٹو انڈسٹری کو نئے قومی سطح کے معیار متعارف کرانے پر شدید تحفظات ہیں۔

انہوں نے وزارتِ صنعت و پیداوار سے منسلک ڈیپارٹمنٹ انجنئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کو معاملہ سونپنے کی تجویز دی، ای ڈی بی یورپین آٹوموٹو ریگولیشنز WP-29 کو اختیار کرنے کے حق میں ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

الیکٹرک وہیکلز پالیسی بن گئی، لیکن کیا پاکستان میں بجلی پر گاڑیاں چلانے کا منصوبہ کامیاب ہو پائے گا؟

ای وی پالیسی، الیکٹرک وہیکلز انقلاب کی پہلی بوند ہیں: ملک امین

پاکستان میں بجلی پر چلنے والی گاڑیوں کی آزمائش شروع، فی کلومیٹر لاگت محض 1.25 روپے آئے گی، کمپنی کا دعویٰ

انڈس موٹرز کمپنی نے پاکستان میں ٹویوٹا یارس لانچ کر دی

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے گاڑیوں کے قومی سطح کے معیار کی پالیسی بنانے کے اقدام کی حمایت کی تھی۔

ذرائع نے مزید کہا کہ ملک اسلم نے مبینہ طور پر وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی حمایت کی کیونکہ اس سے قبل رزاق داؤد نے وزارتِ ماحولیاتی آلودگی کی الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی تیار کرنے کی مخالفت کی تھی۔

گزشتہ ماہ فواد چوہدری نے آٹو سیکٹر کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پی ایس کیو سی اے اور آٹو سیکٹر کے سٹیک ہولڈرز کو ملک بھر میں ‘آٹو موبائل سٹینڈرڈ’ کے یکساں فریم ورک بنانے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا تھا۔

اجلاس میں پی ایس کیو سی اے کے اراکین، پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن، پاکستان آٹوموبائل ڈیلرز ایسوسی ایشن اور ای ڈی بی کے سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی تھی۔

فواد چوہدری نے پاکستان میں دوہرے معیار کی گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ”ملک میں گاڑیوں کی کوالٹی اور سیفٹی کا معیار نہیں دیکھا جا رہا کیونکہ گاڑیوں کی اسمبلنگ کا معیار رکھا ہی نہیں گیا”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here