غریب ممالک میں کورونا سے لڑنے کے لیے اقوام متحدہ نے 2 ارب ڈالر جاری کردیے

کمزور اور غریب ممالک کواس وبا سے مقابلے کے معاملے میں انکے حال پر چھوڑ دینا نہ صرف بیوقوفی بلکہ ظالمانہ اقدام بھی ہوگا : انڈر سیکرٹری مارک لوکوک

390

نیویارک: اقوام متحدہ نے غریب ممالک میں کورونا وائرس کے خطرے سے نمٹنے کے لیے دو ارب ڈالر مالیت کا پلان جاری کرتے ہوئےکہا ہے  کہ اگر ان حالات میں کمزور معیشتوں کو اکیلا چھوڑ دیا گیا تو پھر کوئی بھی مہلک وائرس سے محفوظ نہیں رہے گا۔

کووڈ 19 سے نمٹنے کے عالمی پلان کا اعلان کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ یہ وقت خطرے کے مقابلے میں کمزوروں کی مدد کے لیے آگے بڑھنے کا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ یہ وائرس چین سے شروع ہو کر یورپ میں پھیلا اور اب افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں واقع ان ممالک کی طرف قدم بڑھا رہا ہے جو پہلے ہی تنازعات، قدرتی آفات، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث انسانی المیے سے گزر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس ، اسٹیٹ بینک اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے ریلیف پیکیج جاری کردیا

کورونا وائرس: ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کا آئی ڈی اے رکن ممالک سے قرض واپسی موخر کرنے پراتفاق

کورونا وائرس، نیشنل ریفائنری ، ڈی جی سیمنٹ کمپنی لاک ڈاؤن کے باعث لاک کر دی گئیں

انہوں نے کہا کہ وہ ممالک جہاں تنازعات ہیں، غربت ہے اور جن کا صحت کا نظام ناقص اور کمزور ہے وہ اس وائرس کے پھیلاو کو عالمی مدد کے بغیر روکنے کی سکت نہیں رکھتے۔

کورونا وائرس سے نمٹنے کا عالمی پلان اقوام متحدہ کے اداروں اور عالمی این جی اوز کی مدد سے نافذ کیا جائے گا۔

پلان کے مندرجات درج ذیل ہیں:

وائرس کی تشخیص اور علاج کے لیے ضروری طبی سامان کی فراہمی۔

آبادیوں میں ہاتھ دھونے کی سہولتوں کے انتظامات کرنا۔

وائرس اور اس سے بچاو کی آگاہی مہم چلانا۔

افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں امدادی کارکنوں اور سامان کی منتقلی اور فراہمی کا بندوبست کرنا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے پوری انسانیت کو خطرہ ہے لہذا یہ پوری انسانیت کا فرض ہے وہ اسکے کیخلاف لڑے۔

اس حوالے سے انڈر سیکرٹری مارک لوکوک کا  کہنا تھا کہ دنیا کے کمزور اور غریب ممالک کواس وبا سے مقابلے کے معاملے میں انکے حال پر چھوڑ دینا  نہ صرف بیوقوفی بلکہ ظالمانہ اقدام بھی ہوگا۔ ان ممالک میں وائرس کو پھیلنے کی اجازت دینے کا مطلب کروڑوں جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے یونیسیف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فور کا کہنا تھا کہ بچے کورونا وائرس کے چھپے ہوئے متاثرین ہیں۔ لاک ڈاون اور سکولوں کی بندش انکی تعلیم، دماغی صحت اور  صحت کی بنیادی سہولتوں تک رسائی کو متاثر کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ نے ممبر ممالک سے کمزور ممالک اور دنیا بھر میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے اقدامات اور پلان کے نفاذ میں ہر ممکن مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ عالمی ادارے کے تحت انسانیت کی مدد کے پہلے سے جاری پروگراموں میں بھی تعاون جاری رہنا چاہیے۔

ممبر ممالک کو خبردار کیا گیا کہ اگر پہلے سے جاری پروگراموں کے فنڈز میں کمی آئی یا انکا استعمال کسی اور مقصد کے لیے کیا گیا تو ہیضے، خسرے اور گردن توڑ بخار کی وبا پھیل سکتی ہے اور بچوں میں غذائی قلت بڑھنے اور عسکریت پسندوں کے غالب آنے کے امکانات بڑھ جائیں گے اور یہ ایسی صورتحال ہوگی جس میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلے گا۔

کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے عالمی پلان کا آغاز اقوام متحدہ کے سنٹرل ایمرجنسی ریسپانس فنڈ سے چھ کروڑ ڈالر جاری کرکے کردیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here