کورونا وائرس کیخلاف اقدامات: نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کےلیے پانچ ارب کی ضمنی گرانٹ منظور

منسٹری آف ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے لیے 275ملین روپے، نادرا کے فاٹا ٹی ڈی پی ایمرجنسی ریکوری پراجیکٹ کے لیے 84ملین روپے اور ایس ڈی جی کے لیے 5.5 ارب روپے کی گرانٹ بھی منظور

212

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کورونا وائرس کی وبا کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے لیے پانچ ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی ہے۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کے زیر صدارت ہونے والے ای سی سی کے اجلا س میں مختلف وزارتوں کے لیے چار تکنیکی ضمنی گرانٹوں کی منظوری دی گئی۔

جس میں منسٹری آف ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے لیے 275 ملین روپے، نادرا کے فاٹا ٹی ڈی پی ایمرجنسی ریکوری پراجیکٹ کے لیے 84 ملین روپے، ایس ڈی جی کے لیے 5.5 ارب روپے اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے لیے 5 ارب روپے کی گرانٹ شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 

کورونا وائرس کے اثرات، سٹیل سیکٹر کا بیل آئوٹ پیکیج کا مطالبہ

کیا کورونا وائرس کرنسی نوٹوں سے بھی پھیل سکتا ہے؟

کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے سارک ممالک کے ایمرجنسی فنڈ کی تجویز

کورونا وائرس کے اثرات، آئندہ تین ماہ کیلئے کوئی آرڈرز نہیں، آمدنی متاثر، ٹیکسٹائل مل مالکان حکومتی امداد کے منتظر

اس کے علاوہ اجلاس میں نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی کے لیے پیکج کی تیاری کے حوالے سے تجاویز پیش کرنے کے لیے مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی۔

یہ کمیٹی ایک ماہ میں ستجاویز پیش کرے گی اور اس کے دیگر ارکان میں وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر سائنس و ٹیکنالو جی فواد چودھری اور وزیراعظم کے مشیر برائے کفایت شعاری اور ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین شامل ہیں۔

اجلاس میں جولائی 2016سے مارچ 2019کے عرصے کے لیے کے الیکٹرک کے ٹیرف میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی منظوری بھی دی گئی۔

کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی معاشی صورتحال اور رمضان کے باعث صارفین کو ریلیف دینے کے لیے ٹیرف کا نوٹی فکیشن تین ماہ کے لیے مؤخر کردیا گیا ہے۔ تاہم کے الیکٹرک کو سہولت دینے کے لیے اس ضمن میں 26ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔

نظر ثانی شدہ ٹیرف سے صارفین پر 1.09روپے سے لے کر 2.89روپے کا اثر پڑے گا۔

مزید برآں وزارت توانائی کی جانب سے سوئی گیس کمپنیوں کے ذریعے ایل پی جی کے ائیر مکس سپلائی کے منصوبوں کی سمری پر ای سی سی نے آواران اور بیلا میں پہلے سے موجود پلانٹس کے استعمال کی اجازت دیتے ہوئے چار نئے پلانٹس بنانے کی منظوری دے دی۔

سوئی نادردن اور سوئی سدرن کے اسی قسم کے دوسرے منصوبوں کا معاملہ بھاری سبسڈی کی ضرورت اور دونوں کمپنیوں کے خسارے کے باعث روک دیا گیا۔

واضح رہے کہ سوئی نادردن کو 143ارب جبکہ سوئی سدرن کو72ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here