خیبرپختونخوا کی سب سے بڑی ہول سیل منڈی کے تاجر معاشی مشکلات کا شکار

115

پشاور: صوبہ خیبرپختونخوا کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ پیپل منڈی میں ان دنوں کورونا وائرس کے باعث ویرانی چھائی ہوئی ہے۔

وہ تاجر جن کے کاروبار پہلے ہی وبا کے باعث متاثر ہوئے ہیں، وہ سعودی عرب کی جانب سے عمرہ پر پابندی عائد کیے جانے کے باعث مزید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

تاریخی پیپل منڈی میں 2,000 سے زیادہ دکانیں ہیں جو صوبے کی تمام منڈیوں میں مصنوعات فراہم کرتی ہیں۔ ہول سیل مارکیٹ دیگر مصنوعات کے علاوہ جائے نماز، رومال، مصنوعی جیولری، پانی کی بوتلوں، احرام، صابن، شیمپوز اور تسبیحوں کی فروخت کے باعث معروف ہے۔

مزید پڑھیں: بجلی اور خام مال مہنگا ہونے سے خیبر پختونخوا کی دیا سلائی بنانے کی صنعت بندش کے دہانے پر

اگرچہ یہ علاقہ ماضی میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا سامنا کر چکا ہے تاہم، کاروباری سرگرمیوں میں تعطل پیدا نہیں ہوا لیکن اب کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خوف اور سعودی عرب کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کے باعث تاجروں کے لیے اپنی بقاء کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

تاجر یہ شکایت بھی کرتے ہیں کہ ایک جانب تو کورونا وائرس کے خوف کے باعث کاروبار بند ہیں جب کہ دوسری جانب چینی حکومت نے سرحد بند کر دی ہے جس کے باعث چینی مصنوعات بھی فروخت کرنے کے قابل نہیں رہے اور محض مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات پر ہی انحصار کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: طورخم سرحد بند کرنے کے حکومتی فیصلے پر خیبرپختونخوا کے تاجر نالاں

پیپل منڈی کے تاجروں کی تنظیم کے نائب صدر حاجی مقصود نے کہا کہ کاروباری سرگرمیاں مشکلات کا شکار ہیں اور تاجر نمایاں معاشی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے آگاہ کیا کہ عمرہ زائرین عموماً تمام ناگزیر اشیا ہول سیل مارکیٹ سے خریدتے ہیں لیکن وہ اب یہ مصنوعات صوبے کے دیگر اضلاع سے خرید رہے ہیں۔

ایک مقامی دکان دار محمد پرویز ماضی میں پہلے ہی دہشت گردی کا سامنا کر چکے ہیں اور کوئی معاشی امداد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور وہ اب کورونا وائرس کے باعث مشکلات کا شکار ہیں جس نے پوری مارکیٹ کی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پورے صوبے میں لاک ڈائون نافذ کر دیا ہے اور لوگوں سے یہ کہا ہے کہ وہ مذہبی مقاصد کے لیے مصنوعات نہ خریدیں، حکومت کو چاہئے کہ وہ پیپل منڈی کے تاجروں کے لیے ناصرف خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کرے بلکہ پراپرٹی ٹیکس میں چھوٹ دینے کے علاوہ بجلی کے بلوں میں بھی اضافہ نہ کیا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here