کورونا وائرس، سندھ میں لاک ڈاؤن کے باعث ٹرانسپورٹ بند، کسانوں کو گندم خریداری سینٹرز تک لے جانے میں مشکلات

209

لاہور: ملک میں کورونا وائرس پھیلنے سے لاک ڈاؤن  جاری ہے، سندھ بھر  میں گندم کے کسانوں کو خریداری سینٹرز تک گندم لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے مسائل کا سامنا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدرات میں ملک میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن اور متوقع کرفیو کے باعث خدشہ ظاہر کیا کہ گندم کے کسانوں کو خریداری سینٹرز تک گندم لانے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اندرونِ سندھ میں 15 روز پہلے گندم کی فصل کی کٹائی کا آغاز کیا گیا تھا۔ بدین سے تعلق رکھنے والے ایک کسان اجمل سومرو نے پاکستان ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “میں نے اپنی گندم کی فصل کی کٹائی ختم کر لی ہے لیکن صوبے میں کرفیو اور مکمل لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہمارے پاس کوئی ٹرانسپورٹ نہیں ہو جو گندم کو خریداری سینٹرز میں لے جا سکے”۔

یہ بھی پڑھیے:

حکومت ریکارڈ 280 ارب روپے مالیت کی گندم کی خریداری کرے گی: اسد عمر

گندم کی امدادی قیمت 1600روپے فی من مقررکی جائے: کسانوں کا مطالبہ

کورونا وائرس، وینٹی لیٹرز کی عالمی قلت کے باعث پاکستان کا مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کا فیصلہ

اجمل سے اتفاق کرتے ہوئے ایک اور کسان بلال سومرو نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے درخواست کی کہ وہ کسانوں کو گندم خریداری سینٹرز میں لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ کی فراہمی یقینی بنائیں۔

پرافٹ اردو کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے نیشنل فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ پنجاب اور سندھ نے (بدھ) سے گندم کی خریداری کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ “ابتدائی طور پر 1162 خریداری سینٹرز آج فعال بنائیں جائیں گے جس میں پنجاب میں 382 خریداری سینٹرز شامل ہیں جبکہ کسانوں کو گنی تھیلوں کی فراہمی 5 اپریل سے شروع کی جائے گی”۔

فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے کہا کہ گندم کی خریداری کا عمل ‘پہلے آئیں پہلے بیچیں’ کی بیناد پر ہو گا۔

اسی دوران پنجاب کے کسانوں کو بھی گندم خریداری سینٹرز تک لے جانے کے لیے سندھ کے کسانوں کے ٹرانسپورٹیشن کے مسائل کا خطرہ ہے۔

چینیوٹ کے کسان جمیل عباس نے کہا کہ سندھ میں کسانوں کو کٹائی کی گئی گندم خریداری سینٹرز تک لے جانے میں مشکلات ہو رہی ہیں اور “ہمیں بھی پنجاب میں وہی خطرہ ہے”۔

مظفر گڑھ سے تعلق رکھنے والے کسان احسن بدھ نے پرافٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی کٹائی شیڈول کے مطابق شروع ہو جائے گی کیونکہ کسان ہڑتال نہیں کریں گے، لاک ڈاؤن کے دیہاتی آبادی پر بدترین اثرات ہو رہے ہیں۔

علاوہ ازیں، گاؤں سے شہروں میں جا کر کام کرنے والے ڈیھروں مزدور اپنے گھروں میں واپس چلے گئے ہیں اور وہ تمام گندم کی کٹائی کی طرف متوجہ ہیں، تو وہاں گندم کی کٹائی کے لیے مزدوروں کی قلت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ “اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کس طرح بغیر رکاوٹ کے گنی تھیلوں کی فری ڈلیوری، خریداری اور رقم کے عمل کو ہینڈل کرتی ہے”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here