ڈالر ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح 167.5 پر پہنچ گیا

397

کراچی: امریکی ڈالر ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اور جمعرات کو انٹربینک مارکیٹ میں 167 اعشاریہ 5 روپے میں فروخت ہوتا رہا۔

تجزیہ کاروں نے پاکستانی روپے کی اس قدر گرواٹ کو بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے حکومتی ٹریژری بلز سے اپنی سرمایہ کاری بھاری پیمانے پر نکالنے کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے ہیڈ آف ریسرچ اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ سمیع طارق کے مطابق روپے کی گراوٹ اور امریکی ڈالر کی اڑان عارضی ہے، جیسے ہی کموڈٹی کی قیمتیں کم ہوں گی، بیرونی سرمایہ کاری لوٹ آئے گی تاہم اب عالمی معاشی صورت حال کے باعث دیگر کرنسیز کی نسبت ڈالر مہنگا ہو رہا ہے۔

حال ہی میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ میں کمی کی ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق روپے کی گراوٹ پر اس کا اثر بھی پڑا ہے۔

بدھ کو سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ میں 150 بیسز پوائنٹ کمی کرتے ہوئے شرح سود ساڑھے 12 فیصد کم کرکے 11 فیصد مقرر کردی تھی،

پالیسی ریٹ میں کمی بھی پاکستان سے ہاٹ منی کے اخراج کی وجہ ہو سکتی ہے تاہم سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ حالیہ معاشی صورت حال کی وجہ سے صرف تحفظ کے خیال سے سرمایہ کار سرمایہ نکال رہے ہیں اور ایسا صرف پاکستان میں ہی نہیں کورونا وائرس سے متاثرہ تمام ملکوں میں ہو رہا ہے۔

۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here