ملک بھر میں کورونا کیسز کی لہر برقرار تعداد 1500 ہو گئی

ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث 12 افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ 29 افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں،سب سے زیادہ صحتمند ہونے والے افراد کی تعداد سندھ سے ہے

355

لاہور: وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں میں کورونا وائرس کے مزید کیسز سامنے آنے پر پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد1500ہو گئی ہے جبکہ جان لیوا مرض 12 زندگیاں نگل چکا ہے،اب تک 29 افراد وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

کورونا وائرس کے حوالے سے بنائے گئے سرکاری پورٹل کے اعدادوشمار کے مطابق سندھ متاثرہ افراد کی تعداد 469 ہے، پنجاب میں کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافے سے تعداد 557، خیبرپختونخوا میں مریضوں کی تعداد 188، بلوچستان میں متاثرین کی تعداد 138، گلگت بلتستان میں مزید 15کیسز کے بعد تعداد 107 جبکہ وفاقی دارالحکومت میں مزید 12کیسز کی تصدیق کے بعد تعداد 39 ہوگئی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد دو ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 29 ہو چکی ہے جن میں سے 14کا تعلق سندھ، چار پنجاب،  چارخیبر پختونخوا، دو بلوچستان جبکہ تین  کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔

سندھ اور پنجاب کی حکومتیں لوگوں کونمازیں گھروں میں ادا کرنے کا حکم دے چکی ہیں۔

ملک بھر میں لاک ڈائون

چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں جزوی یا مکمل لاک ڈائون کیا گیا ہے جس پر عملدر آمد کرانے اور سول انتظامیہ کی مدد کیلئے صوبائی حکومتوں کی جانب سے فوجی دستوں کو بھی طلب کیا گیا ہے۔

لاک ڈائون کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں جبکہ صرف میڈیکل سٹورز اور کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ادھر سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر نے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ پر زور دیا ہے کہ اگر عوام گھروں میں نہیں رہتے اور لاک ڈائون کی خلاف ورزی جاری رہتی ہے تو کرفیو لگا دینا چاہیے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق بارہ کہو میں موجود ایک مسجد اور اس کے گردو نواح میں مزید نو افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔

انہوں نے عوام سے گزارش ہے کہ انتظامیہ سے تعاون کریں، بارہ کہو روڈ بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کی جا چکی ہے۔

اسلام آباد میں نقل و حرکت، دفاتر ، ہسپتالوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور کاروبار پر مزید پابندیاں عائد کر دی گئیی ہیں، ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مارکیٹس، شاپنگ مالز، نجی دفاتر بدستور بند رہیں گے جبکہ سرکاری دفاتر صبح 10 سے شام 4 بجے تک کھلیں گے۔

اسی طرح شہروں، ضلعوں اور صوبوں کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی عائد رہے، میٹرو بس سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔

علاوہ ازیں وفاقی دارالحکومت میں ہر قسم کی سماجی مذہبی تقریبات پر بھی پابندی ہے جبکہ ہسپتالوں میں او پی ڈیز بھی معطل رہیں گی البتہ ایمرجنسی سروسز فعال رہیں گی۔

اسلام آباد میں ٹیکسی ڈرائیورز اور مسافروں کو ماسک پہننے کی ہدایت

وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں ٹیکسی ڈرائیورز اور مسافروں کو ماسکس پہننے کی ہدایت جاری کردی۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ ایک گاڑی کی پچھلی نشست پر صرف 2 افراد کے بیٹھنے کی اجازت ہوگی جبکہ ٹیکسی میں ہر مسافر کے سفر کرنے کے بعد اسے جراثیم سے پاک کرنا ہوگا۔

‘بیمار، ضعیف اور وائرس کے مشتبہ افراد مساجد میں نہ آئیں’

پاکستان علماء کونسل، دارالافتاء پاکستان اور ملک بھر کے علماء و مشائخ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا وقت گھروں میں گزاریں اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے،بیمار، ضعیف اور کرونا وائرس کے مشتبہ افراد مساجد میں نہ آئیں۔

کرفیو کا مطالبہ

ملک میں بڑھتے کورونا وائرس کے پیش نظر سابق وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر رحمٰن ملک نے حکومت سے کرفیو لگانے کا مطالبہ کردیا۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، اس پر سیاست اور الزام تراشی کا کوئی کھیل نہیں ہونا چاہیے۔

سینیٹر رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ ہم سب کو آنے والے ہفتوں میں کورونا وائرس سے شدید خطرہ لاحق ہے، لہٰذا ہمیں وائرس سے متاثرہ افراد کو صحت مند افراد سے دور کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here