کورونا وائرس، وینٹی لیٹرز کی عالمی قلت کے باعث پاکستان کا مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کا فیصلہ

ملک میں 1700 وینٹی لیٹرز موجود، ہنگامی صورتحال کیلئے ناکافی، مقامی کمپنیوں کو نمونے جمع کرانے کی ہدایت، آئندہ ہفتوں کے دوران کچھ ادویات کا کلینیکل تجربہ شروع کر دیں گے: ڈاکٹر عطاء الرحمان

413

لاہور: پاکستان میں کورونا وائرس پھیلنے کے پیشِ نظر وزیراعظم عمران خان کی ‘نالج اکانومی ٹاسک فورس’ نے مقامی سطح پر وینٹی لیٹرز بنانے والی کمپنیوں کو 26 مارچ یعنی (جمعرات) تک وینٹی لیٹرز کے نمونے بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے وینٹی لیٹرز کی مجموعی تعداد 1700 ہے جو کسی بھی ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لیے کم ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں بھی وینٹی لیٹرز کی قلت ہے۔

پرافٹ اردو کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی چئیرمین وزیراعظم نالج اکانومی ٹاسک فورس ڈاکٹر عطاء الرحمان نے کہا کہ وہ ملک میں وینٹی لیٹرز بنانے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے مقامی مینو فیکچررز کو اپنے اپنے نمونے 26 مارچ تک جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

“وینٹی لیٹرز کے نمونوں میں سے بہترین کا انتخاب کر کے قومی ضروریات کے مطابق بڑے پیمانے پر وینٹی لیٹرز تیار کیے جائیں گے”۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عطاء الرحمان نے کہا کہ ایک دفعہ نمونے تیار ہو جائیں تو ان کی جانب سے وزارتِ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں سے  مزید معلومات شئیر کی جائیں گی جس کے بعد پاکستان میں وینٹی لیٹرز کی تیاری کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

علی بابا کے بانی کا پاکستان سمیت ایشیائی ممالک کو18 لاکھ ماسک، 2لاکھ ٹیسٹ کٹس دینے کا اعلان

سرجیکل ماسکس، سینیٹائزر سمیت سات قسم کی طبی مصنوعات کی برآمد پر پابندی عائد

کورونا سے نمٹنے کے طبی سامان کی وصولی کے لیے 27 مارچ کو پاک چین بارڈر کھولا جائے گا

ڈاکٹر عطاء الرحمان کورونا وائرس پر وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی ٹاسک فورس کے بھی سربراہ ہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ وہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں آئندہ ہفتوں کے دوران کچھ ادویات کا کلینیکل تجربہ شروع کر دیں گے جبکہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج میں ان ادویات سے مدد ملنے کا امکان ہے۔

گنگا رام ہسپتال میں انیستھیزیالوجسٹ (anesthesiologist) ڈاکٹر سحر رضا نے مقامی طور پر وینٹی لیٹرز بنانے کے پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ “اگر ہم وینٹی لیٹرز جیسے مہنگے آلات پاکستان میں بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی”۔

انہوں نے وضاحت کی کہ کورونا وائرس براہِ راست مریضوں کے پھیپھڑوں پر حملہ آور ہوتا ہے، اس لیے شدید متاثرہ افراد کے لیے وینٹی لیٹر ضروری ہوتا ہے جو مریض کو سانس لینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض کیسز میں مریضوں کو نمونیا ہونے سے انکے کے نچلے پھیپھڑے پانی سے بھر جاتے ہیں جو سانس لینے میں دشواری کا باعث بنتے ہیں اور مریض کی حالت آکسیجن کی کمی کی وجہ سے غیر ہو جاتی ہے، اسی لیے کسی بھی مریض کے سانس نہ لینے کی صورت میں وینٹی لیٹر ان کی زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

وینٹی لیٹرز کی مقامی مینوفیکچرنگ پر بات کرتے ہوئے عامر ظفر درانی نے کہا کہ دنیا بھر میں ہنگامی بنیادوں پر طبی آلات کی پیداوار ہو رہی ہے اور وینٹی لیٹرز کے معاملے کو مقامی کمپنیوں کے معیار اور مسابقت پر سمجھوتا کیے بغیر سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

ماہرِ ٹیکنالوجی ملک احسن رضا نے کہا کہ یہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر پاکستانی انٹرپرینیورز کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے لیے نہایت اہم ہے۔

احسن رضا نے کہا کہ امید ہے بہت سے وینٹی لیٹرز کے نمونے پیش کیے جائیں گے، پاکستان بہت دیر سے  سٹارٹ اپس کی صلاحیت کو نظر انداز کرتا رہا ہے، امید ہے اس وقت ماہر نوجوان بڑے آئیڈیاز کے ساتھ آئیں گے۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ حکومت کو پیداواری عمل کوتیز کرنا چاہیے اور اس نظام کو افسرانِ بالا کی رکاوٹوں سے آزاد بنانا چاہیے۔

دوسری طرف اکانومسٹ ڈاکٹر فریدہ فیصل کہتی ہیں کہ وینٹی لیٹرز کے نمونے پہلے سے موجود ہیں لیکن انکے ٹیسٹنگ نتائج قابلِ بھروسہ نہیں ہیں۔ عملی نقطہ نظر کے مقابلے میں کمرشلائزیشن کسی حد تک زیادہ اہم ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here