کورونا وائرس کا غضب، سٹاک ایکسچینج میں بدترین مندی برقرار، انڈیکس 2100 پوائنٹس گر گیا

110

کراچی: پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے کاروباری روز کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں بدترین مندی رہی،  انڈیکس 2156 پوائنٹس گرتے ہی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ریگولیشن کے مطابق کاروبار کو دو گھنٹوں کے لیے روکنا پڑا۔ 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے  کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مسلسل کمی  ہو رہی ہے۔  اسکے علاوہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن  ہونے سے سرمایہ کار  پریشان ہیں  جبکہ سرمایہ کار مانیٹری پالیسی کی وجہ سے بھی تذبذب کا شکار رہے ہیں۔

اس کے برعکس منگل کے کاروباری روز کے دوران عالمی منڈیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

کاروبار کا آغاز ہوتے ہی انڈیکس 2156 پوائنٹس کمی سے 28510 کی کم ترین سطح پر آگیا جس کے باعث کاروبار کو دو گھنٹوں کے لیے روکنا پڑا تاہم کاروبار دوبارہ شروع ہوا تو مندی کے رجحان سے چھٹکارا پانے کے لیے سرمایہ کاروں کو رہا اور اختتام تک 2102 پوائنٹس کم ہو کر 100 انڈیکس 28564 پر بند ہوا۔

دیگر انڈیکسز میں کے ایم آئی 30 انڈٖیکس 3556 پوائنٹس کم ہو کر 43903 پر جبکہ کے ایس ای آل شئیر انڈیکس 1211 پوائنٹس خسارے سے 20895 پر بند ہوا۔

منگل کے کاروباری روز کو مجموعی حجم 98.75 ملین کم ریکارڈ کیا گیا جبکہ کے الیکٹرک لمیٹڈ، یونیٹی فوڈز لمیٹڈ اور پنجاب بینک کاروباری روز کے دوران مستحکم دکھائی دیے۔

دوسری طرف بینکنگ، کھاد اور آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کے شعبے غیر مستحکم رہے، اُدھر اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ، حبیب بینک لمیٹڈ اور حب پاور کمپنی لمیٹڈ میں بد ترین منفی ٹریڈنگ ہوئی۔

منگل کو کاروبار شروع ہونے کے محض پانچ ہی منٹ بعد سٹاک مارکیٹ کو بند کردیا گیا کیونکہ کے ایس ای 30 انڈیکس کا آغاز 6 اعشاریہ 97 فیصد کمی کیساتھ ہوا تھا۔

دن کے شروع میں ہی کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہزار 826 پوائنٹس یعنی 5.96 پوائنٹس گرکر 28 ہزار 840 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔

اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس 987 پوائنٹس یعنی 6.85 فیصد کم ہوا، جس کے بعد کاروبار کو عارضی طور پر 45 منٹ کے لیے روک دیا گیا۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے تین مرتبہ جبکہ اس سے قبل گزرنے والے ہفتے میں بھی کاروبار تین مرتبہ روکنا پڑا تھا۔

گزشتہ ہفتے اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے دوران 15 فیصد کمی آئی جو دسمبر 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد شرح کے لحاظ سے سب سے بڑی کمی تھی۔

سندھ حکومت کی جانب سے کاروباروں کی بندش اور لاک ڈائون کےفیصلے کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ انتظامیہ نے بھی فیصلہ کیا کہ کاروبار کا دورانیہ کم کیا جائے گا اس لیے رواں ہفتے کے دوسرے روز کاروبار کا دورانیہ  صبح 11 سے شام 4 بجے کر دیا گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here