کورونا وائرس: پنجاب میں پہلی ہلاکت،پاکستان میں متاثرین کی تعداد 959 ہو گئی

وائرس کا شکار 57 سالہ شخص میو ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گیا،  بلوچستان میں لاک ڈائون پر عملدرآمد شروع، چین میں وائرس کی نئی لہر، 72 کیس رپورٹ

640

لاہور: پنجاب میں کورونا وائرس کی وجہ سے پہلی ہلاکت لاہور میں سامنے آئی ہے جبکہ سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں وائرس کے مزید کیسز کی تصدیق کے بعد پاکستان میں متاثرہ افراد کی تعداد 959 تک جا پہنچی ہے، اب تک چھ افراد عالمی وبا سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

کورونا وائرس کے سرکاری پورٹل کے مطابق سندھ میں آج (منگل) 13 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس سے صوبے میں مریضوں کی تعداد 407 ہوگئی، پنجاب میں مزید 21 افراد میں تصدیق کے بعد 267، گلگت بلتستان میں مزید نو کیسز کے بعد 72، خیبرپختونخوا میں مزید 40 کیسز کے بعد تعداد 78 ہو گئی، بلوچستان میں 110، وفاقی دارالحکومت میں 15 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

پنجاب میں پہلی ہلاکت

وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے ٹوئٹ میں مریض کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ بدقسمتی سے کورونا وائرس کا شکار 57 سالہ شخص میو ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گیا۔

آخری بار اپڈیٹ کیا گیا: 24 مارچ 2020، 08:00 بجے رات

انہوں نے لکھا کہ یہ پورے ملک کے لیے مشکل وقت ہے، اس وبا سے لڑنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ گھروں میں رہیں اور حفاظتی تدابیر پر عمل کریں۔

سندھ، پنجاب کے بعد بلوچستان میں بھی لاک ڈائون

بلوچستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے صوبے بھر میں آج سے 2 ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن پر عملدرآمد شروع کردیا گیا۔

 محکمہ داخلہ کے اعلامیہ کے مطابق صوبائی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 2 ہفتوں کے لاک ڈاون کا فیصلہ کرتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔

حکومت بلوچستان نے حفاظتی اقدامات کے تحت کوئٹہ اور صوبے بھر میں شہریوں کی کسی بھی قسم کی نقل و حرکت، مذہبی و سماجی سمیت ہر قسم کی تقریبات پر پابندی عائد کردی ہے۔

یاد رہے کہ سندھ میں 22مارچ کی شب 12 بجے مکمل لاک ڈائون جبکہ پنجاب میں 23 مارچ کو جزوی لاک ڈائون کا اعلان کیا گیا ہے، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی مکمل لاک ڈائون کیا گیا ہے جبکہ ملک بھر میں سول انتظامیہ کی مدد کیلئے فوجی دستوں کو بھی تعینات کیا جا چکا ہے۔

مسافر ٹرینیں بند کرنے کی منظوری

وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں ریلوے آپریشن معطل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

ریلوے نے ٹرینوں کی بندش کا نوٹی فکیشن اپنے آفیشل پیج پر جاری کر دیا جس کے مطابق ٹرین آپریشن 31 مارچ تک ملتوی کیا گیا ہے اور آج رات 12 بجے سے کوئی نئی مسافر ٹرین نہیں چلے گی۔

اس سے قبل وزارت ریلوے نے ملک بھر ٹرین آپریشن کی معطلی کے لیے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن چند منٹوں میں ہی واپس لے لیا۔

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی زیرصدارت ویڈیو لنک کے ذریعے ریلوے ہیڈکوارٹر لاہور میں اجلاس ہوا جس میں ریلوے افسران نے کورونا وائرس کے حوالے سے ریلوے آپریشن کی موجودہ صورتحال پرسفارشات پیش کیں۔

واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر محکمہ ریلوے نے اب تک 44 ٹرینیں بند کردی ہیں۔

اس سے قبل پاکستان ریلوے کے نوٹیفکیشن کے مطابق ٹرین سروس کی معطلی کا اطلاق رات 12 بجے سے 31 مارچ تک 7 روز کے لیے ہوگا۔

21 مارچ کی رات 8 بجے سے دو ہفتوں کے لیے تمام بین الاقوامی پروازوں کو معطل کیا گیا تھا اور یہ 4 اپریل کی شام 8 بجے تک پاکستان آنے والی پروازیں معطل رہیں گی۔

مزید قیدیوں کی رہائی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کورونا وائرس کے پیش نظر 408قیدیوں کی ضمانت پر مشروط رہائی کا حکم دے دیا۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظرقیدیوں کی ضمانت پر رہائی سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

چین میں کورونا کی دوسری لہر 

چین میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 78 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے بڑی تعداد بیرون ملک سے آنے والے افراد کی تھی جس سے ملک میں انفیکشن کی دوسری لہر کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق وائرس کے مرکز ووہان سے تقریباً ایک ہفتے تک کوئی نیا کیس سامنے نہ آنے کے بعد پہلا نیا کیس سامنے آگیا جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں 3 مقامی سطح پر پھیلے انفیکشن بھی رپورٹ ہوئے۔

چین کے قومی صحت کمیشن نے بتایا کہ وائرس سے مزید 7 افراد ہلاک ہوگئے، یہ تمام ہلاکتیں ووہان میں ہوئیں۔

منگل کے روز بیرون ملک سے آئے 74 نئے کیسز سامنے آئے جو مارچ کے آغاز سے رپورٹ ہونے والے ڈیٹا کے مطابق ایک روز میں سامنے آنے والے اب تک کے سب سے زیادہ کیسز ہیں اور گزشتہ روز سامنے آنے والے کیسز کے دوگنا ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here