گھر سے کام کی سہولت، دنیا بھر میں لیپ ٹاپس، میمری چپس، انٹرنیٹ ڈیٹا کی مانگ میں ریکارڈ اضافہ

179

سیول/ ٹوکیو: کورونا کی وبا کا زور کم کرنے کیلئے دنیا بھر میں کمپنیوں نے ملازمین کو دفتر کی بجائے گھروں سے کام کرنے کی سہولت دے رکھی ہے، اس کیلئے راتوں رات ورچوئل آفسز بنائے گئے ہیں، کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس سمیت آئی ٹی کی دیگر مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہو گیا ہے۔

کسٹمرز کی کمی کی وجہ سے اکثر کمپنیوں نے اپنی امدن کے سالانہ تخمینے واپس لے لیے ہیں تاہم الیکٹرونکس ریٹیلرز اور چِپ میکرز کا کاروبار خوب چمک اٹھا ہے۔

چین میں کورونا پھیلنے کے بعد ٹیکنالوجی اور آٹو سیکٹر کی بڑی کمپنیوں نے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی اجازت دے دی تھی، جنوبی کوریا میں دنیا کی سب سے زیادہ میمری چپ تیار ہوتی ہیں جو اس کی سب سے بڑی کمپنی سام سنگ تیار کرتی ہے، کمپنی کے مطابق سیمی کنڈکٹرز کی ایکسپورٹ میں 20 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کیا کورونا وائرس کرنسی نوٹوں سے بھی پھیل سکتا ہے؟

کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے سارک ممالک کے ایمرجنسی فنڈ کی تجویز

چاند پر انسان کی واپسی کے مشن کو دھچکا، کورونا وائرس کے باعث راکٹ کی تیاری روک دی گئی

امریکا میں بھی اکثر ملازمین گھروں سے کام کر رہے ہیں، ہر تین میں سے ایک امریکی شہری گھر پر رہنے پہ مجبور ہے۔ اٹلی جہاں کورونا وائرس نے چین کے بعد سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے وہاں بھی حکومت نے پابندیاں سخت کر دی ہیں۔

زیادہ سے زیادہ افراد کے گھروں سے کام کرنے کی وجہ سے انٹرنیٹ کی ڈیمانڈ میں بھی اضافہ ہوا ہے، کیپ انویسٹمنٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق کمپنیوں کو ڈیٹا کی زیادہ کھپت کی وجہ سے نظام مزید بہتر کرنا ہوگا۔

جنوبی کوریا کی وزارت تجارت کے مطابق سرور چپس کی طلب میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے امریکا اور چین بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔

جاپان کی لیپ ٹاپ بنانے والی کمپنی Dynabookکےمطابق ان کے لیپ ٹاپس کی مانگ میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔

میمری چپس کی سب سے زیادہ ڈیمانڈ چین میں ہے کیونکہ جیسے ہی چینی حکومت نے لاک ڈائون کیا تو یہاں کی تین سب سے بڑی کمپنیوں علی بابا گروپ ہولڈنگ لمیٹڈ، ٹینسینٹ ہولڈنگز لمیٹڈ اور بائیڈو انٹرنیشنل کاپوریشن نے ملازمین کو گھروں سے کام کا کم دے دیا۔

آئی ٹی آلات کی جہاں طلب میں اضافہ ہوا ہے وہیں دنیا بھر میں سفری اور تجارتی پابندیوں کی وجہ سے ان کی طلب و رسد بھی متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے قیمتیں زیادہ ہو گئی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here