‘کورونا کی وجہ سے کاروبار بند، حکومت تین ماہ کیلئے بجلی، گیس کے بل معاف کرے’

ہسپتالوں کی کمی وجہ سے شادی ہالوں کو قرنطینہ میں تبدیل کیا جائے اور بدلے میں مالکان کو تین سال کیلئے ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے: صدر لاہور چیمبر

192

لاہور: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کی بندش کی وجہ سے حکومت تین ماہ کیلئے بجلی و گیس کے بلوں کی چھوٹ دے۔

سوموار کو لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ کی جانب سے ایک بیان میں پراپرٹی مالکان سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دو ماہ کیلئے کرائے معاف کردیں۔

  انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کے خدشے کے پیش نظر چھوٹۓ بڑے کاروبار بند ہیں، روزانہ کی بنیاد پر اجرت پانے والے مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ یا تو انہیں کام نہیں مل رہا یا پھر حکومتی احکامات کی وجہ سے گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

“کاروباری بندش کی وجہ سے لوگ گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ تین ماہ کے یوٹیلٹی بلز وصول نہ کرکے عوام کو سہولت دے”۔

انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ہسپتالوں کی کمی وجہ سے شادی ہالوں کو قرنطینہ میں تبدیل کیا جائے اور بدلے میں مالکان کو تین سال کیلئے ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاہورچیمبر کی رکنیت سازی کی تاریخ میں توسیع کردی جائے گی۔

صنعتی صارفین کیلئے یکساں ٹیرف کا مطالبہ

دوسری جانب لاہور بند روڈ انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید محمود غزنوی نے حکومت سے تمام صنعتی صارفین کیلئے بجلی کا یکساں ٹیرف لاگو کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

لاہور چیمبر میں ایسوسی ایشن کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے 0۔75 فی سینٹ کا ٹیرف مقرر کیا ہے اور دیگر تمام صنعتوں کیلئے یہی ٹیکس ہونا چاہیے تاکہ پیداواری اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت صنعتوں کو سستی بجلی فراہم نہیں کرتی ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہوگا کیونکہ پاکستانی برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں کمی ہے جبکہ مہنگی بجلی کی وجہ سے بھی صنعتکا نقصان اٹھا رہے ہیں۔

سید غزنوی کے مطابق پاکستان کی مصنوعات بنگلہ دیش اور بھارت سے کہیں  بہتر ہیں تاہم اگر ہمیں اس میدان میں خطے کے ممالک کا مقابلہ کرنا ہے تو صنعتوں کو بجلی سستی دینا ہوگی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here