عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں مزید چار فی صد کمی

163

لاہور: تیل کی قیمتوں میں آج (سوموار) دوبارہ کمی آئی ہے جس کی وجہ عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے مختلف ملکوں میں لاک ڈائون کیا جانا ہے۔

برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں 1.09 ڈالر یا چار فی صد کمی آئی ہے اور اب فی بیرل تیل کی قیمت 25.89 ڈالر ہو گئی ہے جب کہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 15 سینٹ یا صفر اعشاریہ سات فی صد کم ہوئی ہے جو اب 22.58 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

سال کے آغاز سے اب تک تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے ہفتے کمی آئی ہے جو مجموعی طور پر قریباً 60 فی صد بنتی ہے۔ اس بحران کے باعث تیل سے تانبے تک ہر چیز کی قیمت پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے باوجود سعودی آرامکو تیل کی قیمتوں پر محاذ آرائی جاری رکھنے پر تیار

کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں اب تک 1,35,000 لوگ متاثر ہوئے ہیں اور 14 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہے اور وبا کے باعث کاروبار، سفری سرگرمیوں اور روزمرہ معمولات زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بہت سی آئل کمپنیوں نے اخراجات کم کرنے کی تگ و دو کی ہے اور کچھ پروڈیوسرز پہلے ہی عملے کے ارکان کو رخصت پر بھیج رہے ہیں۔

 منڈی کو دو جہتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے باعث طلب میں کمی آئی ہے جن میں سے ایک تو کورونا وائرس کی وبا ہے اور دوسری وجہ آئل پروڈیوس کرنے والے ملکوں روس اور سعودی عرب کے درمیان اس ماہ کے آغاز میں تیل کی قیمتوں پر شروع ہونے والی غیرمتوقع محاذ آرائی ہے۔

پیداوار میں کمی کا موجودہ معاہدہ 31 مارچ کو ختم ہونا ہے۔

امریکیوں کی قریباً ایک تہائی تعداد کو گھروں میں محصور رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں کیوں کہ ریاستوں نے دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے معاملات کے باعث غیرمعمولی اقدامات کیے ہیں جب کہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آڈرن نے کہا ہے کہ تمام غیرضروری خدمات اور کاروبار بند کر دیے جائیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے باعث خام تیل کی قیمت 30 ڈالر فی بیرل سے بھی کم

دنیا کی سب سے بڑی آئل ٹریڈنگ کمپنی وائٹول کے ہیڈ آف ریسرچ جیووانی سیریو نے کہا ہے کہ طلب میں متوقع طور پر عالمی سطح پر 10 ملین بیرل روزانہ یا  قریباً 10 فی صد خام تیل کے استعمال میں کمی آنے کا خدشہ ہے۔

دنیا بھر میں آئل ریفائنریز تیل کی پیداوار کم کر رہی ہیں یا اس بارے میں غور کر رہی ہیں کیوں کہ وبا کے باعث فیول کی طلب میں کمی آئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here