جرمنی کا کورونا وائرس کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے 150 ارب روپے کا ہنگامی پیکیج

419

برلن: جرمنی کے وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ جرمنی نے 150 ارب یورو (160 ارب ڈالر) کا ہنگامی بجٹ تیار کر لیا ہے جس کا مقصد کورونا وائرس کی وبا کے باعث ملازمتوں اور خطرات کی زد پر آئے کاروباری اداروں کو برقرار رکھنا ہے۔

حکومتی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجی شعبہ کے لیے اربوں روپے مزید جمع کیے جائیں گے جیسا کہ وزیر خزانہ اولف شولف کہتے ہیں کہ نئی حکومت ملکی دستور میں مقرر کی گئی بجٹ کی حد کو غیر معمولی حالات کے باعث منسوخ کر دے گی۔

جرمن وزیر خزانہ نے کہا کہ 150 ارب یورو ایک بڑی امائونٹ ہے لیکن اس کی وجہ سے ہم اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس پھیلنے کے پیش نظر یورپ میں کار ساز فیکٹریاں بند

انہوں نے نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ ہی ہم ملک کے دیگر اداروں کو بھی بنیاد فراہم کر رہے ہیں کہ وہ کمپنیوں کو مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر اقدامات کریں۔ یہ نہایت اہم ہے کہ ابتدا میں ہی واضح اور مضبوط نوعیت کی بنیاد فراہم کی جائے۔

سینئر حکام  اور قانون کے ڈرافٹ کے مطابق، پیکیج میں 156 ارب یورو کا اضافی سرکاری بجٹ بھی شامل ہو گا، جن میں سے 100 ملین یورو فنڈ برائے معاشی استحکام کے لیے مختص ہوں گے جس کے تحت کمپنیوں میں براہِ راست ایکویٹی حاصل کی جا سکے گی اور 100 ارب یورو سرکاری ڈویلپمنٹ بنک کے ایف ڈبلیو سے مشکلات کا شکار کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی کے لیے ہوں گے۔

ان تمام اقدامات سے بڑھ کر فنڈ برائے معاشی استحکام چار سو ارب یورو کی قرضہ جاتی ضمانت دے گا تاکہ دیوالیہ پن کا شکار ہونے والے کارپوریٹ اداروں کو قرض کے باعث پریشانی نہ ہو جس کے باعث پیکیج کا مجموعی حجم 750 ارب یورو سے زیادہ ہو جاتا ہے۔

جرمنی کے قرضوں کے حوالے سے قانون کے تحت وہ معاشی آمدن کے 0.35 فی صد سے زیادہ نیا قرض نہیں لے سکتا تاہم، اگر ملک قومی بحران یا دیگر ہنگامی حالات کا شکار ہو تو اس صورت میں اسے استثنیٰ حاصل ہے۔

جرمن وزیر خزانہ نے یہ تصدیق کی ہے کہ حکومت اس استثنیٰ پر عمل کرے گی۔

مزید پڑھیں: آٹوموبائل سے ایوی ایشن انڈسٹری تک سب معاشی بحران کا شکار، مختلف ہنگامی اقدامات کرنے پرغور

انہوں نے کہا کہ ہم آئین میں فراہم کی گئی عمومی حد سے زیادہ قرضہ لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران سختی کے باعث ایسا اقدام کرنے کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے اور قرض کی واپس کی ادائیگی کا شیڈول ڈرافٹ لا کا حصہ ہو گا۔

چانسلر انجیلا مراکل نے یہ عہد کیا ہے کہ ان کی حکومت وبا کے معاشی اثرات کم کرنے کے لیے جو بھی ممکن ہو سکا، کرے گی اور ان کی کابینہ کل (سوموار) ان معاشی اقدامات کے پیکیج کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

ایک سرکاری ذریعے کا کہنا ہے کہ 150 ارب یورو کا اضافی بجٹ تیاری کے مراحل میں ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here