کورونا وائرس، ارسا نے 50 سال سے زائد ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی اجازت دے دی

260

اسلام آباد: انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے ملازمین کی تعداد 50 فیصد کم کرکے دفتر کے اوقات تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ گھروں سے الیکٹرانک گیجٹس کے ذریعے کام کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

ارسا حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی تشویشناک صورتحال سے حفاظتی اقدامات کی کوشش کی ہے تاکہ ملازمین کی کورونا وائرس کے اثرات سے جان بچائی جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے ادارے کی جانب سے حالیہ حکم کے مطابق وزارتِ داخلہ کو کورونا وائرس کے پھیلنے کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

ارسا کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے مطابق وزارتِ داخلہ نے اس حوالے سے باضابطہ منظوری کا حکم جاری کیا تھا۔ سیکرٹری ارسا نے ادارے کے ملازمین کو کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات چئیرمین ارسا کی منظوری کے بعد کیے۔

یہ بھی پڑھیے:

آئی ایم ایف کورونا وائرس سے متاثرہ کاروباروں کو ٹیکس ریلیف دینے پر متفق

کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے 61 قسم کے طبی آلات کی درآمد پر ٹیکس ختم

چاند پر انسان کی واپسی کے مشن کو دھچکا، کورونا وائرس کے باعث راکٹ کی تیاری روک دی گئی

ارسا کے حکم نامے کے مطابق تمام سیکشنز کے سربراہان کو اہم ذمہ داریوں کے لیے ضروری ملازمین کی نشاندہی کر کے دفاتر میں رہنے کا حکم دیا تھا اور ہر سیکشن سے ملازمین کے نوکری کے اوقات تبدیل یا کم بھی کیے جاسکتے ہیں۔

اسی طرح 50 سال سے زائد عمر کے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن ان کے پاس واٹس ایپ، سکائپ، موبائل فون اور انٹرنیٹ لازمی ہونا چاہیے جبکہ ایسے ملازمین جنہیں نزلہ، کھانسی اور زکام یا کورونا وائرس جیسی علامات کا شبہ ہو انہیں موبائل فون کے ذریعے آگاہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ ماسوائے راولپنڈی اور اسلام آباد کے ملازمین کو اپنے اپنے شہروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی سوائے ان ملازمین کو جنہیں سیکشن ہیڈز کی جانب سے کوئی ذمہ داری سونپی ہو۔

اس سے قبل وزارتِ داخلہ نے 19 مارچ 2020 کو ملازمین کی تعداد 50 فیصد کر دی گئی تھی فیصلے پر عملدرآمد 20 مارچ سے ہوا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here