‘حکومت نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے تو بڑے کاروبار اور لاکھوں نوکریاں ختم ہو جائیں گی’

213

اسلام آباد: دنیا بھرمیں کورونا وائرس پھیلنے کے باعث ملکی سٹیل انڈسٹری کی مانگ میں واضح کمی آنے سے مقامی صنعت کو سنگین مالی بحران کا سامنا ہے، ممکنہ معاشی بدحالی کو دیکھتے ہوئے سٹیل انڈسٹری نے حکومت سے ایک سال کا کیلئے امدادی پیکیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج سٹیل پروڈیوسرز (پی اے ایل سی پی) نے وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو ایک خط لکھا ہے جس میں کورونا وائرس کے اثرات پر قابو پانے کے لیے کم از کم ایک سال تک ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پی اے ایل سی پی نے کہا ہے کہ جب تک حکومت بروقت اقدامات نہیں کرتی اس وقت تک مہلک وائرس سے لازمی طور پر بہت سے کاروباروں کو دیوالیہ اور لاکھوں ملازمین بےروزگار ہوں گے، ایسوسی ایشن نے حکومت کو کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات تجویز کیے۔

ایسوسی ایشن کی جانب سے خط میں شرح سود ایک سال تک پانچ فیصد کرنے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ طویل المدت اور قلیل المدت کی تمام بنیادی ادائیگیاں اگلے ایک سال تک ملتوی اور شرح سود پانچ فیصد  تک کرکے صنعت اور ریٹیلرز کو فوری طور پر ٹرن اوور ٹیکس کی شرح 0.25 فیصد تک کم کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس، پاکستانی درآمد کنندگان کو خام مال کے حصول میں مشکلات، دیگر ممالک سے منگوانے کی کوششیں

حکومت کورونا وائرس کے اثرات سے شہریوں اور معیشت کو بچانے کے لیے کوشاں ہے

ایسوسی ایشن نے حکومت سے سٹیل مصنوعات پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور دیگر درآمدی ڈیوٹیز ختم کرنے کی گزارش کی جیسا کہ انڈسٹری کے لیے خام مال ضروری سمجھا جاتا ہے۔

پی اے ایل سی پی کے مطابق تمام رجسٹرڈ سٹیل انڈسٹری کی یکم جون 2019 سے شروع ہونے والی انوینٹری پر حکومت کو جلد سیلز ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کا حکم جاری کرنا چاہیے کیونکہ سیلز ٹیکس میں واضح تبدیلی کے باوجود ایف بی آر کے پاس اربوں روپے پھنسے ہیں۔

وزارتِ کامرس کے افسران کے مطابق برآمدات کے آرڈرز منسوخ ہونے سے دو سے چار ارب ڈالر نقصان ہونے کا اندیشہ ہے، دنیا بھر کی بڑی بندرگاہیں اور ریٹیلرز غیر فعال ہونے سے عالمی طلب میں کمی ہونے سے عالمی ترقی کی شرح بھی کم ہونے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here