کورونا وائرس کے اثرات، آئندہ تین ماہ کیلئے کوئی آرڈرز نہیں، آمدنی متاثر، ٹیکسٹائل مل مالکان حکومتی امداد کے منتظر

برآمدات تین سے چھ ماہ تک بحال نہ ہونے کا امکان، انڈسٹری کو زندہ رکھنے کے لیے قرضوں ، ٹیکسوں اور سود کی ادائیگی مؤخر کرنے اور بقایاجات جلد جاری کرنے کا مطالبہ، ہوزری ملازمین کی حکومت سےنوکریاں بچانے کی اپیل

158

لاہور: امریکہ اور یورپ سمیت عالمی سطح پر مارکیٹوں  کی بندش کے باعث ملکی ٹیکسٹائل صنعت نے سیلز ٹرن اوور صفر رہنے کے خدشے کا اظہار کردیا ہے جس کے باعث کام مکمل یا جزوی طور پر روک دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے اپٹما کے وائس چئیرمین عامر شیخ  کا پرافٹ اردو سے گفتگو میں کہنا تھا  کہ حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر آمدن تقریباً صفر ہوچکی ہے اور ہمارے لیے اب مالی مدد کے بغیر چلنا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک گاہکوں کی جانب سے برآمدات کے آرڈر روک دیے گئے ہیں اور اگلے تین ماہ تک کوئی آرڈر نہیں ہے لہٰذا ایسے وقت میں برآمدات کے لیے کوئی بھی پیکج بے کار ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: کپاس کی درآمد پر پابندی کی تجویز مسترد،ٹیکسٹائل سیکٹر کی پیداوار رُک جائے گی، ملازمین  بیروزگار ہو جائیں گے: اپٹما

انکا کہنا تھا کہ اس وقت ایسے پیکج کی ضرورت ہے جو ٹیکسٹائل صنعت کو زندہ رکھنے  میں مددگار ہو تاکہ ملازمین کو نکالنے جیسے اقدامات اور بیروزگاری کو روکا جا سکے ۔ انہوں نے حکومت سے ٹیکسوں، قرضوں اور سود کی ادائیگی، لیویز کی ادائیگی کو مؤخر کرنے ، زیرو ریٹنگ کی بحالی اور بقایاجات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

اپٹما کے سینئر نائب صدر عبدالرحیم ناصر نے بتایا کہ کچھ برآمد کنندگان نے صورتحال کا درست اندازہ لگانے کے لیے اپنے آپریشنز تین سے پانچ دن کے لیے بند کردیے ہیں اور زیادہ تر محض کارخانوں کو چالو رکھنے کے لیے اپنی صلاحیت کے پچاس فیصد کے برابر پیداوار کر رہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ چونکہ اس وقت کمپنیاں نقصان کر رہی ہیں لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ 30 جون تک ٹیکس کی شرح کو صفر کردے ، Export Refinance Facility کو بڑھادے اور سود کی ادائیگی  کی مدت کو 30جون سے آگے تک بڑھا دے۔

یہ بھی پڑھیے: آئی ایم ایف کورونا وائرس سے متاثرہ کاروباروں کو ٹیکس ریلیف دینے پر متفق

انہوں نے حکومت سے ٹیکسوں اور لیویز کی مد میں بقایا جات کی دو ہفتوں میں ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا۔

اپٹما گروپ لیڈر گوہر اعجاز نے بتایا کہ ٹیکسٹائل کی 14 ارب ڈالر کی برآمدات میں سے 10 ارب ڈالر کی برآمدات پر 12.5 سود کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ چونکہ اگلے تین سے چھ ماہ تک کوئی برآمدات نہیں ہونگی لہذا ٹیکسٹائل صنعت کے قائم رہنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت سود کی ادائیگی کو مؤخر کرے اور بقایا جات فوری طور پر جاری کرے۔

ٹیکسٹائل مل مالکان نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی بنک فوری طور پر ان ڈائریکٹ برآمد کنندگان کے لیے مارک اپ کو Export Refinance Facility کے برابر کردے اور حکومت انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس فائل کرنے کی مدت میں کم از کم ساٹھ دن کا اضافہ کرے۔ انہوں نے EOBI اور سوشل سیکیورٹی ادائیگیاں بھی تین ماہ کے لیے مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہوزری ملازمین کی حکومت سے نوکریاں بچانے کی اپیل

پاکستان ہوزری مینوفیکچرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نائب چئیرمین شفیع بٹ نے صنعت کا پہیہ جاری رکھنے اور ملازمین کی نوکریاں بچانے کے لیے حکومت سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے تناظر میں بر آمدات کے آرڈر منسوخ ہونے کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری مشکلات کا شکار ہے اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کےقابل نہ ہونے کے باعث انہیں نکالے جانے کے نوٹسز بھیجے جارہے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے فوری طور پر صورتحال کی طرف توجہ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملازمین کو نکالا گیا تو ملک میں پہلے سے جاری بیروزگاری کے بحران میں اضافہ ہوگا۔

شفیع بٹ کا کہنا تھا کہ معیشت کو عالمی سطح پر ہونے والی سست روی کے اثرات سے بچانے اور ملکی ٹیکسٹائل صنعت کا پہیہ چالو رکھنے کےلیے ضروری ہے کہ  حکومت فوری طور پر بقایاجات کی ادائیگی، مارک اپ میں کمی اور بجلی و گیس کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here