’کورونا وائرس سے لڑنے کیلئے پاکستان کو لاک ڈائون کرنا ہی پڑے گا‘

حکومت کو چاہیے تمام غیر ضروری سرگرمیوں اور اجتماعات پر پابندی لگائے، لاک ڈائون سے مستقبل کی حکمت عملی بنانے کے لیے وقت مل جائے گا: عاطف میاں

260

کراچی: ماہر معاشیات عاطف میاں نے تجویز دی ہے کہ پاکستان کو کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے دیگر اقدامات کے ساتھ لاک ڈائون بھی کرنا چاہیے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹس میں حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستانی شہریوں کو عالمی وبا  کے مہلک اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے جرات مندانہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہفتے کو پاکستان کے چاروں صوبوں میں مزید 172 افراد میں کوروناوائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کی مجموعی تعداد 664 ہو چکی ہے۔

ماہر معاشیات عاطف میاں

عاطف میاں نے تجویز دی ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ تمام غیر ضروری سرگرمیوں اور اجتماعات کو منسوخ کرتے ہوئے ملک بھر میں لاک ڈائون کیا جائے ، اس طرح آپ وائرس سے لڑنے کیلئے مستقبل کی حکمت عملی بنانے کے ساتھ ضروری اقدامات اٹھا پائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے 61 قسم کے طبی آلات کی درآمد پر ٹیکس ختم

آئی ایم ایف کورونا وائرس سے متاثرہ کاروباروں کو ٹیکس ریلیف دینے پر متفق

کورونا وائرس: لاک ڈاؤن کی صورت میں ٹیلی کام کمپنیوں کے دفاتر کھلے رکھنے کا فیصلہ

کورونا کی وجہ سے آن لائن خریداری میں اضافہ، وال مارٹ کا ڈیڑھ لاکھ ملازمین بھرتی کرنے کا منصوبہ

انہوں نے کورونا کی ٹیسٹنگ سمیت صحت کی تمام سہولیات بہتر کرنے زور دیتے ہوئے کہ کہ خوراک اور ادویات کی طلب و رسد برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے ۔

’’ہیلتھ ورکرز کو ’کنٹیکٹ ٹریسنگ ‘ کی تربیت دی جائے، صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل استعمال میں لائے جائیں ، صرف مسلسل ٹیسٹنگ اور حفاظتی اقدامات ہی وائرس کو دور رکھ سکتے ہیں اور ملک کو جلد نارمل حالات کی جانب لوٹنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ ‘‘

عاطف میاں کے مطابق مسلسل ٹیسٹنگ اور کنٹیکٹ ٹریسنگ(متاثرہ شخص کس کس سے رابطے میں رہا) ہی دو ایسے طریقے ہیں جو وائرس سے تباہ حال معیشت کو واپس پٹری پر لاسکتے ہیں، اس وقت حکومت کی صلاحیت اور طاقت کا امتحال ہےکیونکہ لاکھوں زندگی دائو پر لگی ہیں ۔

انہوں نے تجویز دی کہ نجی شعبے، این جی اوز اور بے نظیر انکم سپورٹ جیسے پروگرام کو ملکر کام کرنا چاہیے اور وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد اور علاقوں پر توجہ دینی چاہیے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here