سعودی عرب نے ہنگامی بجٹ کا اعلان کر دیا، خسارہ بڑھنے کا خدشہ

163

ریاض، دبئی: سعودی عرب نے گزشتہ روز 32 ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد کا اعلان کیا ہے جو کورونا وائرس اور تیل کی کم قیمتوں کے باعث مرتب ہونے والے اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو گا اور حکام نے یہ کہا ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے خسارے کو کم کرنے کے لیے مزید قرض لینے پر غور کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کے مرکزی بنک نے گزشتہ ہفتے کہا کہ اس نے 50 ارب ریال (13.32 ارب ڈالر) کا پیکیج تیار کیا ہے تاکہ بنکوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کی مدد کی جا سکے جو کورونا وائرس سے معاشی طور پر متاثر ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں۔

وزیر خزانہ محمد الجدان کی جانب سے اعلان کیے گئے پیکیج کے تحت 70 ارب ریال کاروباری اداروں کی مدد کے لیے الگ رکھے جائیں گے جب کہ اس کے علاوہ کچھ سرکاری فیسوں اور ٹیکسوں میں استثنیٰ اور التوا کی طرح کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

محمد الجدان نے کہا ہے کہ سعودی عرب رواں برس اپنا قرض بڑھائے گا تاکہ خسارے پر قابو پایا جا سکے جس کے بارے میں انہوں نے یہ اندازہ مرتب کیا ہے کہ یہ سال کے اختتام پر زیادہ سے زیادہ سات سے نو فی صد تک بڑھ سکتا ہے جب کہ قبل ازیں 6.4 فی صد کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے باوجود سعودی آرامکو تیل کی قیمتوں پر محاذ آرائی جاری رکھنے پر تیار

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس وسیع ذخائر اور بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری موجود ہے لیکن ہم اسے لیکویڈیٹ نہیں کرنا چاہتے چناں چہ ہم قرض لیں گے۔ میں یہ امید نہیں کرتا کہ 2020 کے اختتام تک خسارہ سات سے نو فی صد سے بڑھے گا اور یہ ہمارا ہدف بھی ہے۔

محمد الجدان نے کہا کہ شاہ سلمان کے ملک میں کورونا وائرس سے اب تک کوئی موت نہیں ہوئی، انہوں نے قرض کی حد گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ کے 30 فی صد سے بڑھا کر 50 فی صد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ امید نہیں کرتے کہ 2022 تک یہ (قرض) 50 فی صد سے زیادہ ہو گا اور رواں برس ہم 100 ارب ریال سے زیادہ قرض لینے کی امید نہیں کر رہے اور یہ مزید کم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی کاروباری شخصیات ویلیو ایڈڈ ٹیکس، ایکسائز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی ادائیگیاں تین ماہ کے عرصہ کے لیے ملتوی کر سکتی ہیں۔

حکومت نے تین ماہ کے لیے اقامہ فیس بھی نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جو حکومت غیرملکیوں کو ملازمت دینے اور ان کے عزیز و اقارب کے لیے ویزے کے حصول پر وصول کرتی ہے۔

سعودی وزیر خزانہ نے کہا کہ ان اقدامات کا دورانیہ بڑھایا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کا ملک کو لاک ڈائون کرنے کا فیصلہ، پاکستان سمیت کئی ممالک سے فضائی رابطہ منقطع

انہوں نے کہا کہ دنیا میں تیل کے سب سے بڑے برآمدکنندہ سعودی عرب نے رواں ہفتے سلطنت کے 2020 کے لیے 50 ارب ریال مالیت کے بجٹ میں پانچ فی صد کمی کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی اور کورونا وائرس کے خطرے کے بڑھنے کے باعث اخراجات کا ازسرِنو اندازہ مرتب کیا جائے گا۔

سعودی وزیر خزانہ نے ریاستی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہنگامی منصوبہ تشکیل دے چکی ہے اور یہ اخراجات میں کمی، قرضوں اور ذخائر کے استعمال پر مشتمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس مختلف زرائع استعمال کرنے کی صلاحیت موجود ہے جس کے باعث وہ درست انداز سے اور درست وقت پر معاشی سمت تبدیل کرنے کے قابل ہے جب کہ درمیانے اور طویل عرصے کے لیے معاشی پائیداری اور ترقی کو برقرار رکھنے کے اہداف پر اثرات کم سے کم رکھنا بھی اہم ہے۔

سعودی عرب نے 2020 کے لیے 1.02 کھرب ریال کے بجٹ کا اعلان کیا تھا جو 2014 میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد سے خسارے کا شکار ہے جس کے بارے میں تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ بجٹ تیل کی 60 ڈالر فی بیرل قیمت کے مفروضے کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا تھا جب کہ گزشتہ روز تیل کی قیمت 30 ڈالر فی بیرل سے کم تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here