’کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے میں ایک سے ڈیڑھ سال لگ سکتا ہے‘

230

جنیوا: جان لیوا کورونا وائرس کے باعث مختلف ممالک میں مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ،ایسے میں بڑی بڑی ادویہ ساز کمپنیاں اس  عالمی وبا پر قابو پانے کیلئے ویکسین کی تیاری کی سر توڑ کوششوں  میں لگی ہیں تاہم ان کمپنیوں کی جانب سے کہا گیا کہ تباہ کن کورونا کی ویکسین بنانے کیلئے ایک سے ڈیڑھ سال لگ سکتا ہے۔

ادویات انڈسٹری کے سربراہان اور بین الاقوامی فیڈریشن آف فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز نے جنیوا میں منعقدہ ایک ورچوئل پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کے لیے 12 سے 18 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے ۔

کمپنیوں کے سربراہان نے کہا کہ ہمیں پورا اعتماد ہے کہ ٹیکنالوجی اس وبا پر غالب آئے گی، وہ ویکسین کی ضرورت کے مطابق دنیا بھر میں دستیابی یقینی بنائیں گے۔

پریس کانفرنس میں سنوفی پاسچر فارماسیوٹیکل کمپنی کے وائس ایگزیکٹو نے کہا کہ جب آپ اس بارے میں سوچتے ہیں کہ کتنے لوگوں کو یہ ویکسین چاہیے تو یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستانی طالبعلم نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والا ڈیٹیکٹر تیار کر لیا

پنجاب یونیورسٹی کے ماہرین کا کورونا وائرس کی تشخیصی کٹ تیار کرنے کا دعویٰ

اسرائیل دہشتگردوں کی ٹریکنگ کیلئے استعمال ہونے والی جاسوس ٹیکنالوجی سے کورونا کے مریضوں کی نگرانی کرے گا

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا، جب تک اس ویکسین کو مارکیٹ میں رجسٹرڈ نہیں کروالیتے اس وقت تک ہمیں 12 سے 18 ماہ تک لگ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے فوراً بعد ہی دنیا بھر میں ویکسین اور اس کے علاج کے لیے کلینیکل ٹرائلز کیے جا رہے ہیں۔

لیکن ادویہ ساز  صنعت کے سربراہوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں کووڈ-19 کی ویکسین کو جلد پیش کرنے کے لیے جانچ کے معیار کو کم نہیں کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے ویکسین کی تیاری کے لیے پہلا مرحلہ تیزی سے طے کیا گیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی سائنسدانوں کا بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کا توڑ ڈھونڈ لیا گیا ہے، صرف پری کلینکل اور کلینکل ٹرائل کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔

چین کے بعد اس وقت کورونا وائرس کو یورپی ممالک اور خاص طور پر بحیرہ روم کے ساحل پر موجود ممالک جن میں اٹلی، اسپین اور فرانس جیسے ممالک شامل ہیں، وہاں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

کورونا وائرس سے متعلق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور امریکی صحت سے متعلق اداروں سمیت کورونا وائرس سے متعلق کام کرنے والے دیگر عالمی اداروں کے مشترکہ آن لائن میپ کے مطابق 20 مارچ کی صبح تک یورپ میں وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہو چکی تھی۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس دنیا کے 160 ممالک میں 2 لاکھ 44 ہزار 553 افراد کو متاثر کرچکا ہے اور اس وائرس کے باعث اب تک 10 ہزار 31 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ 86 ہزار 32 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here