سٹیٹ بنک آف پاکستان کے برآمدات کے فروغ کے لیے اہم فیصلے

334

کراچی: سٹیٹ بنک آف پاکستان (ایس بی پی) نے گزشتہ روز جاری کیے گئے ایک بیان کے ذریعے برآمدکنندگان کو اجازت دے دی ہے کہ وہ اپنی کنسائنمنٹ کے حوالے سے شپنگ کی دستاویزات وقت کی پابندی کے بغیر براہِ راست ارسال کر سکتے ہیں۔

قبل ازیں، برآمدکنندگان اپنے بیرونی خریداروں کو ایک لاکھ ڈالر (دیگر کرنسی میں یکساں) تک مالیت کی برآمداتی کنسائنمنٹ کی شپنگ دستاویزات براہِ راست ارسال کر سکتے تھے۔ یہ پابندی 2017 میں عائد کی گئی تھی۔

 ایس بی پی نے بنکوں کے لیے مینوفیکچرنگ و انڈسٹریل اداروں اور 10 سے 25 ہزار ڈالر مالیت تک کا خام مال، سپیئر پارٹس اور مشینری درآمد کرنے والے کمرشل امپورٹرز کی طرف سے ایڈوانس ادائیگیوں کے لیے بھی انوائس کی لمٹ میں اضافہ کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: فروری 2020ء میں برآمدات میں 13.6 فیصد اضافہ ہوا، مشیر تجارت

سٹیٹ بنک آف پاکستان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ برآمداتی صنعت اور مینوفیکچرنگ کے اداروں کے لیے کاروبار میں آسانی پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ہیں جن سے ملک کی معاشی حالت بہتر ہو گی۔

حالیہ اقدامات مرکزی بنک کی جانب سے کیے گئے گزشتہ اقدامات سے ہم آہنگ ہیں جو اس نے برآمداتی سیکٹر کے فروغ کے لیے کیے تھے۔

مزید پڑھیں: سات ماہ میں برآمدات میں22 فیصد اضافہ لیکن پاکستانیوں نے 7 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے سمارٹ فون درآمد کر لیے

ان میں یہ سہولت بھی شامل ہے کہ خام مال، سپیئر پارٹس اور مشینری درآمد کرنے والے کمرشل امپورٹرز کو فی انوائس 10 ہزار ڈالر تک کی ایڈوانس ادائیگی کی سہولت دی گئی ہے۔

 ایس بی پی نے ڈیلرز کو یہ اجازت بھی دی ہے کہ وہ ناقابلِ تنسیخ لیٹر آف کریڈٹ کے تحت پلانٹس، مشینری، سپیئر پارٹس اور خام مال کی درآمد کے لیے لیٹر آف کریڈٹ کی ویلیو کا 100 فی صد وصول کر سکتے ہیں۔

بنک نے یہ سہولت ان مینوفیکچرز کو بھی فراہم کی ہے جو اوپن اکائونٹ کی بنیاد پر خام مال اور سپیئر پارٹس درآمد کرتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here