پاکستان سٹاک ایکسچیج: 1900 پوائنٹس گرنے کے بعد بحال، 30 ہزار کی نفسیاتی حد عبور، ڈالر 35 پیسے سستا

کے ایس ای 100 انڈیکس دس منٹ میں 1752 پوائنٹس گرنے سے 28664 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک آ گیا جس کے بعد کاروبار کو 45 منٹوں کے لیے روکنا پڑا، تاہم کاروبار کے دوبارہ شروع ہونے پر انڈیکس بحال ہونا شروع ہوا

255

کراچی: پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے کاروباری روز کے 1963 پوائنٹس گرنے سے انڈیکس 28 ہزار پوائنٹس کی سطح پر آ گیا، منفی رجحان کا اثر توڑنے کے لیے ٹریڈنگ چھٹی بار روکنا پڑی تاہم کاروبار دوبارہ بحال ہونے کے بعد انڈیکس قدرے بہتر ہوا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 30129 پوائنٹس پر بند ہوا۔  

جمعرات کے روز کاروبار کا آغاز ہوا تو مندی آنے سے 1963 پوائنٹس گر نے سے انڈیکس  28452 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر آگیا اور کاروبار کو 45 منٹس کے لیے بند کر دیا گیا تاہم   کاروبار بحال ہونے کے بعد  قدرے بہتری آنے سے انڈیکس 30515 پوائنٹس تک گیا۔

کاروبار کے اختتام تک انڈیکس 286 پوائنٹس کمی سے 30129 پوائنٹس  پر بند ہوا۔

دیگر انڈیکسز میں کے ایم آئی 30 انڈیکس  میں کاروبار کے اختتام تک 583 پوائنٹس کمی سے 46347 پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شئیر انڈیکس  میں کاروبار کے اختتام تک 283 پوائنٹس اضافے سے 21685 پوائنٹس پر بند ہوا۔

کاروبار کے چوتھے روز   کے الیکٹرک لمیٹڈ، یونیٹی فوڈز لمیٹڈ اور پنجاب بینک   انڈیکس ٹیبل پر نمایاں رہے جبکہ کھاد اور  بینکنگ کے شعبے کومثبتکاروبار کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ دوسری طرف سیمنٹ، پاور جنریشن اینڈ ڈسٹریبیوشن اور آئل اینڈ گیس مارکیٹنگ کے شعبے  تباہ کن ثابت ہوئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس پھیلنے کے سبب پاکستان میں دو اموات اور کئی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آ چکے ہیں جس کے باعث پاکستان سٹاک ایکسچینج شدید دباؤ میں آ چکی ہے۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج کے حکام کا کہنا ہے کہ شدید مندی کے باعث کاروبار روکنے یا مارکیٹ کے فعال رہنے سے بہتر نہیں ہو گا۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گزشتہ دو کاروباری ہفتوں کے دوران کاروبار کو شدید مندی کے باعث چھ بار روکا جا چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے بے قابو ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں پر بھی سٹاک بیچنے کا دباؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

مارکیٹ ہالٹ کیا ہے؟

دسمبر 2019 میں سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے پاکستان سٹاک ایکسچینج ریگولیشنز میں تبدیلی کے ذریعے مارکیٹ ہالٹ کا طریقہ کار متعارف کرایا تھا۔

سٹاک مارکیٹ میں کے ایس ای 30 انڈیکس میں 4 فیصد سے زائد کا منفی کاروبار مسلسل پانچ منٹ تک رہے تو ریگولیشنز کے مطابق مارکیٹ ہالٹ کر دی جاتی ہے۔ مارکیٹ ہالٹ متعارف کرانے کا مقصد سرمایہ کاروں شدید مندی کی صورتحال میں تحفظ فراہم کرنا ہے۔

امریکی ڈالر کی قدر میں کمی

انٹر بینک میں جمعرات کو پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں 35پیسے کی کمی ہوئی جب کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق گزشتہ روزانٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید5پیسے کی کمی سے158.40روپے سے کم ہو کر158.35روپے او رقیمت فروخت35پیسے کی کمی سے158.80روپے سے کم ہو کر158.45روپے ہوگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید157.50روپے اورقیمت فروخت158.50روپے مستحکم رہی۔

دیگر کرنسیوں میں یوروکی قیمت خرید4روپے کی کمی سے172روپے سے کم ہو کر168روپے اورقیمت فروخت5روپے کی کمی سے176روپے سے کم ہو کر171روپے ہوگئی جبکہ برطانوی پاؤنڈکی قیمت خرید4روپے کی کمی سے188روپے سے کم ہو کر184روپے اورقیمت فروخت6روپے کی کمی سے194روپے سے کم ہو کر188روپے ہوگئی۔

چینی یوآن کی قیمت خرید20روپے اور قیمت فروخت22.50روپے مستحکم رہی، سعودی ریال کی قیمت خرید40.90روپے سے کم ہو کر38روپے اورقیمت فروخت41.70روپے سے کم ہو کر39روپے ہوگئی جبکہ یواے ای درہم کی قیمت خرید42روپے سے کم ہو کر41روپے اورقیمت فروخت42.80روپے سے کم ہو کر42روپے ہوگئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here