پاکستانی طالبعلم نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والا ڈیٹیکٹر تیار کر لیا

394

لاہور: غلام اسحاق خان  انسٹیٹیوٹ آف انجنئیرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (GIKI) کے ایک طالب علم نے چیسٹ ایکس رے (x-ray) کو کام میں لاتے ہوئے کورونا وائرس کی تشخیص کیلئےمصنوعی ذہانت  پر مبنی (AI-based solution) حل پیش کیا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے بنائے گئے ڈیٹیکٹر کی مدد سے وائرس کی 96 فیصد تک درست تشخیص ہو سکتی ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں آٹھ ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں جبکہ دو لاکھ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں، پاکستان میں بھی متاثرہ افراد کی تعداد چار سو کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں دو افراد کی موت بھی ہو چکی ہے۔

کورونا وائرس کے ٹیسٹ  مہنگے ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں  جبکہ پاکستان کے پاس اس وائرس کی تشخیص کیلئے مناسب مقدار میں کٹس موجود نہیں ہیں، حال ہی میں چین سے 12ہزار کٹس منگوائی گئی ہیں جو ملک بھر کے کورونا وائرس کے علاج کے لیے مختص ہسپتالوں کو بھیجی گئی ہیں۔

امریکن کالج آف ریڈیالوجی کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ چیسٹ سی ٹی سکین کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے استعمال ہو سکتا ہے لیکن یہ عام آدمی کے لیے مہنگا ہے   تاہم  اس کے برعکس  چیسٹ ایکس رے کسی بھی ہسپتال یا ڈسپنسری میں کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پنجاب یونیورسٹی کے ماہرین کا کورونا وائرس کی تشخیصی کٹ تیار کرنے کا دعویٰ

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اڑھائی کروڑ افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

کورونا وائرس، انڈس موٹرز کمپنی کی نئی کار ’’ٹیوٹا یارس‘‘ کی تقریبِ رونمائی ملتوی ہونے کا امکان

محمد علیم سٹینفرڈ یونیورسٹی ، آئی  بی ایم اور ڈیپ لرننگ  ڈاٹ اے آئی سے مصنوعی ذہانت کے سرٹیفکیٹ  حاصل کر چکے ہیں اور انجنئرنگ کی صلاحتیوں سے میڈیکل سائنس کی مدد کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، وہ ایک روبوٹک آرم بھی بنا رہے ہیں تاکہ بازوئوں سے محروم افراد کو لگایا جا سکے۔

Image result for corona detection by x ray

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے وسائل کی کمی ہے اس لیے مصنوعی ذہانت کو کام میں لا کر اس وائرس کا پتا چلانے پر کام شروع کیا ہے  جس کیلئے مصنوعی ذہانت کی ایک ذیلی شاخ ’’نیوٹرل نیٹ ورکس ‘‘ سے مدد لی گئی ہے۔

محمد علیم نے ان افراد کے چیسٹ ایکس رے امیجز حاصل کیے جن میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت یا منفی آیا تھا اور پھر نیوٹرل نیٹ ورکس کی مدد سے ان کی تشخیص کی جس کےنتائج 85 سے 90 فیصد تک درست تھے۔

انہوں نے کہا کہ تشخیص کے عمل کو مزید درست بنانے کیلئے مزید افراد کا ڈیٹا مطلوب ہو گاجس کے لیے حکومتی اور نجی  میڈیکل اداروں سے رابطہ کیا گیا ہے۔

علیم نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کے مریضوں کے ایکس رے امیجز کی تصویریں انہیں بھیجیں تاکہ زیادہ بہتر طور پر تشخیص کی جا سکے کیونکہ سسٹم میں جتنے زیادہ ایکس اے امیجز ہوں گے اتنا ہی درست پتا چلانے میں مدد ملے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here