حکومتِ خیبرپختونخوا کے لیے پشاور میٹرو بس منصوبہ مکمل کرنا مشکل، لاگت میں 17 ارب روپے مزید اضافہ

300

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی صدارت میں ایپکس کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بی آر ٹی کیس کی سماعت کی، بی آر ٹی کے ڈھانچے میں تبدیلی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا جس کے بعد پشاور ڈیپارٹمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) نے سپریم کورٹ میں اپیل کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

بی آر ٹی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ منصوبے کی لاگت کتنی ہے۔ پی ڈی اے کے نمائندے بلال جھگڑا نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ پشاور میٹرو کا مجموعی تخمینہ 66.4 ارب روپے تھا۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ انہوں نے سنا تھا کہ پشاور میٹرو بس کے ٹریک کے کچھ مقامات سے بسیں نہیں گزر سکتیں جس پر بلال جھگڑا نے کہا کہ منصوبے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

 جسٹس بندیال نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ منصوبے کی لاگت پر 17 ارب روپے اضافے سے قومی خزانے کو نقصان ہوا۔

پی ڈی اے کے مؤکل نے کہا کہ کہ منصوبے پر لاگت میں اضافہ بی آر ٹی کے ٹریک میں دو کلومیٹر اضافہ اور پراجیکٹ سائیکل ون (پی سی1) میں تبدیل کرنے سے ہوا۔

جج نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ منصوبے کے راستے میں رہائشی گھر واقع ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کی ہر ہدایت پر عملدرآمد کیا۔ عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر کورٹ اگر کسی کو غلط طریقے سے معاوضے گرانٹ کرے تو تمام شہر معاوضے کے لیے درخواستیں دائر کر دے گا۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کیس کی سماعت ایک مہینے کےلیے ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے میں تمام اقدامات قواعدوضوابط کے تحت دیکھنے کے لیے عدالت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here