کورونا وائرس کا خوف، پاکستان سٹاک مارکیٹ پر دباؤ برقرار، انڈیکس 30416 پوائنٹس پر بند

دو ہفتوں کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں  پانچویں  بار تجارت روکنا پڑی، رواں ہفتے اب تک دو بار کاروبار روکا جا چکا ہے

282

کراچی: کورونا وائرس نے دنیا بھر کے حصص بازاروں  اور منڈیوں میں پنجے گاڑھ  دیے ہیں  جس کے باعث پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید طوفانِ مندی  دیکھا جا رہا ہے، بدھ کے کاروباری روز کے دوران بھی کاروبار کو معمول پر لانے کے لیے ٹریڈنگ 45 منٹوں کے لیے روکنا پڑی لیکن کاروبار دوبارہ شروع ہونے سے منفی رجحان کا اثر زائل نہ کیا جا سکا اور انڈیکس   30416 پوائنٹس پر بند ہوا۔ 

بدھ کے روز کے ایس ای 30 انڈیکس میں مسلسل پانچ منٹ تک 5 فیصد سے زائد کی منفی تجارت ہوئی جس سے سٹاک مارکیٹ کو 45 منٹوں کے لیے روکنا پڑا۔

گزشتہ آٹھ کاروباری روز کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج کی مالیت 18 فیصد تک گر گئی ہے، سرمائے کی مندی، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن اور بینکنگ کے شعبوں کو 20 فیصد خسارہ ہوا ہے۔

کاروباری ہفتے کے تیسرے روز ٹریڈنگ کا آغاز ہوا تو کے ایس ای 100 انڈیکس میں کچھ ہی دیر میں 2238 پوائنٹس خسارے سے انڈیکس 30378 پوائنٹس پر آگیا جس کے بعد کاروبار کو 45 منٹوں کے لیے روکنا پڑا۔ تاہم جب تجارت بحال ہوئی تو مندی کا رجحان ہی برقرار رہا اور کاروبار کے اختتام تک 2200 پوائنٹس کمی سے انڈیکس 30416 پوائنٹس پر بند ہوا۔

دیگر انڈیسز میں کے ایم آئی 30 انڈیکس میں 3822 پوائنٹس گرنے سے انڈیکس 46930 پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شئیر انڈیکس میں 1279 پوائنٹس کمی سے انڈیکس 21968 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بدھ کے کاروباری روز کے دوران کے الیکٹرک لمیٹڈ، بینک آف پنجاب اور ایچ بی ایل انویسٹمنٹ فنڈ کے شعبے مستحکم نظر آئے جبکہ کھاد، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، اینگرو کارپوریشن اور حب پاور لمیٹڈ نے کاروبار پر تباہ کن اثرات مرتب کیے۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ دو ہفتوں کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں  پانچویں  بار تجارت روکنا پڑی، رواں ہفتے اب تک دو بار کاروبار روکا جا چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دن بدن ملک میں کورونا وائرس کے کیس  سامنے آنے سے سرمایہ کاروں پر سٹاک بیچنے کا دباؤ پڑ رہا ہے۔

بدھ کو جس وقت کاروبار معطل کیا گیا اس وقت کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہزار 682 پوائنٹس کی کمی سے 30 ہزار 934 پوائنٹس پر آگیا تھا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 6.26 فیصد یعنی 895 پوائنٹس کم ہوگیا تھا۔

یہ مدنظر رہے کہ بورس رولز کے مطابق کے ایس ای 30 انڈیکس 4 فیصد یا اس سے زائد گر جائے اور 5 منٹ تک برقرار رہے تو کاروبار کو 45 منٹ کے لیے روک دیا جاتا ہے۔

حالیہ مندی سے رواں برس تقریباً 20 فیصد کمی ریکارڈ ہوچکی ہے اور 13 جنوری کو حاصل ہونے والی بہترین سطح سے مزید 25 فیصد خسارہ ریکارڈ کیا جاچکا ہے۔

مارکیٹ ہالٹ کیا ہے؟

دسمبر 2019 میں سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے پاکستان سٹاک ایکسچینج ریگولیشنز میں تبدیلی کے ذریعے مارکیٹ ہالٹ کا طریقہ کار متعارف کرایا تھا۔

سٹاک مارکیٹ میں کے ایس ای 30 انڈیکس میں 4 فیصد سے زائد کا منفی کاروبار مسلسل پانچ منٹ تک رہے تو ریگولیشنز کے مطابق مارکیٹ ہالٹ کر دی جاتی ہے۔

مارکیٹ ہالٹ متعارف کرانے کا مقصد سرمایہ کاروں شدید مندی کی صورتحال میں تحفظ فراہم کرنا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here