’کورونا وائرس سے ترقی پذیر معیشتیں تباہ ہو سکتی ہیں، دنیا قرضے معاف کرنے پر غور کرے‘

سیاسی اختلافات یا اقتصادی مفادات سے بالا تر ہوکرانسانی بنیادوں پر وائرس کا پھیلاﺅ کو روکنے کی ضرورت ہے، امریکا ایران سے پابندیاں ختم کرے، وزیر اعظم عمران خان کا امریکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو

196

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں تباہی کا شکار ہو سکتی ہیں، ترقی یافتہ ممالک پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے کچھ قرضے معاف کرنے پر غور کریں، اگر کورونا وائرس پھیلتا ہے تو ہمیں صحت کی سہولیات کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، سیاسی اختلافات یا اقتصادی مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے انسانی بنیادوں پر کورونا وائرس کے پھیلائو  کو روکنے کی ضرورت ہے، ایران پر بھی امریکی پابندیاں ختم کی جائیں۔

منگل کو امریکی خبر رساں ادارے کو اپنے ایک انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر پاکستان میں کورونا وائرس کا مسئلہ شدت اختیار کرتا ہے تو اس سے حکومت کی طرف سے خراب معیشت کو بہتر بنانے کی کوششیں متاثر ہونے، برآمدات میں کمی، بے روزگاری میں اضافے اور قرضے کا بوجھ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات نہ صرف پاکستان بلکہ برصغیر میں بھارت اور افریقی ممالک کے لئے بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر کورونا وائرس پھیلتا ہے تو ہمیں صحت کی سہولیات کے حوالے سے بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اس حوالے سے ہماری استعداد اور ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

کورونا وائرس، پاکستان میں مجموعی تعداد 195 ہو گئی، پی ایس ایل ملتوی

پنجاب یونیورسٹی کے ماہرین کا کورونا وائرس کی تشخیصی کٹ تیار کرنے کا دعویٰ

کورونا وائرس کی ویکسین کی ایجاد، دواساز کمپنیوں میں مقابلہ، کمائی کا نادر موقع

کورونا وائرس: امریکا، یورپ میں سینکڑوں نئے کیسز، ہلاکتوں میں بھی اضافہ، لاک ڈاؤن سے نظام زندگی درہم برہم

عمران خان نے مشرق وسطیٰ میں کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے ایران کے خلاف امریکی پابندیاں اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے زیادہ تر مریض ایران سے آئے اور ایران ایک ایسی مثال کے طور پر موجود ہے جہاں سیاسی اختلافات یا اقتصادی مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے انسانی بنیادوں پر کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کی ضرورت ہے۔

بھارت میں مسلمانوں پر جاری تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت نے شہریت کے نئے متنازعہ قانون کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی شہریت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایک انتہا پسند اور نسل پرست جماعت جو نسلی بالادستی پر یقین رکھتی ہے، اس نے ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ایک ارب سے زائد آبادی کے ملک پر غلبہ حاصل کیا ہوا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کی طرف سے خطرے اور بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی کی وجہ سے مشرقی سرحد کے دوسری طرف پرتشدد واقعات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ بھارت کا شہریت کا نیا قانون اسلام کے سوا جنوبی ایشیاءکے تمام بڑے مذاہب کی غیر ملکی نژاد مذہبی اقلیتوں کو تیز رفتار شہریت دینے کا عمل ہے جبکہ وہاں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 28 کروڑ ہے۔

 وزیراعظم نے ہمسایہ ملک افغانستان کے صدر کے حالیہ بیانات کو مایوس کن قرار دیا ،انہوں نے کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں۔ کچھ بھی ہو، افغان صدر کو پاکستان کے امن عمل کو آگے بڑھانے کے طریقہ کار کو سراہنا چاہئے تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت کی ہمیشہ مخالفت کی اور اسے پاکستانی عوام کی جانوں اور پیسے کا ضیاع قرار دیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here