کورونا وائرس کے باعث 20 ممالک نے مالی امداد کے لیے رابطہ کیا: آئی ایم ایف

وائرس کے پھیلاؤ کے باعث عالمی سطح پر مالیاتی تعاون وقت کی ضرورت بن گیا ہے،  2008 کے معاشی بحران جیسے اقدامات اٹھانے ہوں گے، حکومتیں صحت پر اخراجات کو ترجیح بنائیں: کرسٹلینا جورجیوویا

392

واشنگٹن: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)  کی سربراہ کرسٹلینا جورجیوویا نے کہا ہے کہ کورورونا وائرس کی وجہ سے معیشت کی زبوں حالی کے باعث 20 ممالک نے مالی امدادکے لیے رجوع کیا ہے۔

آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کرسٹلینا کا کہنا تھا کہ عالمی  مالیاتی ادارہ رکن ممالک کی مدد کے لیے اپنی پوری استطاعت جو کہ ایک کھرب ڈالر دینے کو تیار ہے تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں بتایا۔

یاد رہے کہ ایران نے گزشتہ ہفتے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ معاشی بحران سے نمٹنے کےلیے آئی ایم ایف سے ہنگامی قرض لینے پر غور کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: آئندہ 2 سالوں میں پاکستان کے 27 ارب ڈالر کےقرضے واجب الادا، معیشت غیر مستحکم، مہنگائی بڑھے گی: آئی ایم ایف

آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ وائرس کے پھیلاؤ کے باعث عالمی سطح پر   مالیاتی تعاون وقت کی ضرورت بن گیا ہے،  انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کے باعث ویسے ہی مالی اقدامات کی ضرورت پڑے گی جیسے 2008کے معاشی بحران میں اٹھائے گئے تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ 2009  میں 20 ممالک نے عالمی مالی تعاون کے لیے اپنے جی ڈی پی کا 2 فیصد مختص کیا تھا جو آج کے دور کے مطاق 900 ارب ڈالر بنتے ہیں لہٰذا آج کے درپیش چیلنج  (کورونا وائرس ) سے نمٹنے کےلیے زبردست اقدامات کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیے: آئی ایم ایف پاکستان سے نالاں؟؟؟

آئی ایم ایف کی سربراہ نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ صحت پر زیادہ سے زیادہ اخراجات کو ترجیح دیں اور وائرس سے متاثر ہونے والے کاروباروں کو ٹیکس چھوٹ اور افراد کو تنخواہ کیساتھ چھٹیوں جیسی سہولیات دیں۔

انہوں  نے دنیا بھر کے مرکزی بنکوں پر بھی زور دیا کہ وہ معیشت میں سرمائے کے بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے مالیاتی شرائط کو نرم رکھیں، انہوں نے اس سلسلے میں امریکی فیڈرل ریزرو بنک کے اقدامات کا بطور مثال حوالہ دیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here