کورونا وائرس کا قہر: امریکا، یورپ میں سینکڑوں نئے کیسز، ہلاکتوں میں بھی اضافہ، لاک ڈاؤن سے نظام زندگی درہم برہم

جرمنی پولینڈ کے بارڈرز پر نگرانی سخت،پرتگال سپین سرحد بند، فرانس میں پبلک ٹرانسپورٹ محدود، سلوواکیہ اور سربیا میں قومی ایمرجنسی کا نفاذ، فوج طلب، ترکی میں ریستوران، شراب خانے بند، اشیائے خورونوش کیلئے لوگوں کی لمبی قطاریں

177

واشنگٹن، لندن: کورونا وائرس کی بگڑتی صورتحال کے باعث یورپ میں غیرم معمولی اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں، مہلک وائرس سے نمٹنے کے لیے جرمنی اور پولینڈ کے بارڈرز پر نگرانی سخت، فرانس میں پبلک ٹرانسپورٹ محدود جبکہ سلوواکیہ اور سربیا میں قومی  سطح پر ایمرجنسی کا نفاذ کردیا گیا ہے۔   

وائرس سے بچاؤ کے لیے آسٹریا میں پانچ سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے، نیدرلینڈز اور آئرلینڈ میں تعلیمی اداروں، شراب خانوں اور ریستورانوں کی بندش اور سربیا میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر فوج کی تعیناتی کا حکم دیا   گیا ہے۔

جرمنی اور پولینڈ کے بارڈر پر ایک شخص کا درجہ حرارت چیک کیا جارہا ہے  ( فوٹو: ڈیلی میل)

ادھر ترکی نے سعودی عرب سے لوٹنے والوں کے لیے دس ہزاربستروں پر مشتمل قرنطینہ قائم کردیا ہے جبکہ ملک بھر میں ریستورانوں اور شراب خانوں کو تا حکم ثانی بند کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کورونا وائرس نےعالمی معیشتوں کوہلا کر رکھ دیا،شائد پاکستان کے لیے ویسا تباہ کن ثابت نہ ہو

پورے یورپ میں کورونا وائرس کے باعث 100ملین افراد کو لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے جبکہ خطے میں مہلک وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2000 سے زائد بتائی جارہی ہے جن میں زیادہ تر 1800 سے زیادہ ہلاکتیں صرف اٹلی میں ہوئی ہیں۔

پولینڈ میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن – بازاروں میں ویرانی کا عالم ہے  ( فوٹو: ڈیلی میل )

جرمنی نے اپنی سرحدوں پر نگرانی اور سکروٹنی بڑھا دی ہے، لوگوں کو انتہائی ضرورت کے علاوہ سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی اور مشتبہ افراد کو واپس بھیجا رہا ہے،  سفر کی اجازت نہ ملنے کے باعث پولینڈ کیساتھ جرمن سرحد پر گاڑیوں کی   طویل قطاریں  لگ گئی ہیں۔

 یوکرین اور پولینڈ کے بارڈر کا منظر جہاں سخت نگرانی کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطار لگی ہوئی ہے (فوٹو : ڈیل میل)

اٹلی میں کرونا وائرس کیسز کی تعداد پچیس ہزار تک پہنچ گئی، ملک میں مہلک وائرس  سے مرنے والوں کی تعداد  1809    ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:کورونا وائرس سے عالمی معیشت کو نقصان، لیکن ٹیکنالوجی کمپنیوں کے وارے نیارے

پرتگال نے سپین کیساتھ سرحد ایک ماہ کے لیے بند کردی ہے، سپین میں ملک گیر قرنطینہ کے نفاذ کے بعد کھانے پینے کی اشیا کے لیے لمبی قطاریں دیکھنے میں آرہی ہیں۔

Milan on Sunday.
اٹلی کے دارلحکومت میلان میں کورونا وائرس کے پیش نظر لوگوں کو باہر نکلنے سے منع کیا گیا ہے، فوٹو: گوگل

فلپائن میں دارلحکومت منیلا کو لاک ڈائون کردیا گیا ہے، ادھر چین میں بیرون ملک سے آنے والے افراد کوائیرپورٹ سے چیک اپ کے بعد گھروں یا قرنطینہ بھیجا جا رہا ہے۔

پورا امریکا بند کرنے پر غور شروع

کورورنا وائرس نے امریکا میں بھی کھلبلی مچادی ہے جہاں مہلک وائرس کے سامنے آنے والئے کیسز کی تعداد 3782 ہوگئی ہے۔ بڑھتے خطرے کے باعث پورے امریکا کو بند کرنے پر غور شروع ہوچکا ہے۔

امریکا بھر میں پچھلے چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 102نئے کیسز سامنے آچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:کورونا وائرس، امریکا کے ہنگامی اقدامات، 50 ارب ڈالر کی منظوری، تیل ذخیرہ کرنے کی ہدایت

امریکی صدر کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر انتھونی فاسی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ خطرناک وبائی وائرس کی روک تھام کے لیے اگر پورے ملک کو بھی بند کرنا پڑا تو وہ اس کی حمایت کریں گے۔

The New York Stock Exchange on Monday.
نیویارک سٹاک ایکسچینج کا علاقہ ویران پڑا ہے، فوٹو: گوگل

نیو یارک امریکا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر ہے جس کے مئیر نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیزی سے پھیلتے وائرس کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن سمیت ہر طرح کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔

خراب ہوتی صورتحال کے پش نظر مئیر نیویارک نے وفاقی حکومت سے مدد مانگ لی ہے اور اپیل کی ہے کہ اشیائے صرف کی فراہمی بحال رکھنے کی ذمہ داری وہ سنبھال لے کیونکہ معاملہ مقامی حکومت کے بس سے باہر ہوتا جارہا ہے۔

شہر کی صورتحال یہ ہے کہ  تمام تعلیمی اداروں، سینما گھروں، نائٹ کلبوں، بارز اور دیگر مقامات کو فوری بند کردیا گیا ہے۔ ریستورانوں سے کھانے کی ڈیلیوری کو محدود کردیا گیا ہے۔

دنیا میں صورت حال

واضح رہے کہ کورونا وائرس 156 ممالک تک پھیل چکا تھا اور دنیا بھر میں ایک لاکھ 56 ہزار 400 سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

چین کے بعد کورونا وائرس نے ابتدائی طور پر جنوبی کوریا اور ایران جیسے ممالک کو متاثر کیا اور وہاں کچھ ہی عرصے میں مریضوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی مگر پھر کورونا وائرس نے اپنی رفتار بڑھائی اور اس وائرس نے یورپ اور امریکا کو اپنا نیا مرکز بنایا۔

فوٹو: جان ہاپکنز یونیورسٹی

اب حیران کن طور کورونا وائرس کے کیسز چین کے بجائے یورپ، امریکا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ سمیت دیگر خطوں میں سامنے آ رہے ہیں تاہم کورونا وائرس کے نئے کیسز سب سے زیادہ یورپ میں ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

کورونا وائرس کے مریضوں میں محض آخری 2 دن میں ہی 30 ہزار سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور سب سے زیادہ اضافہ یورپ میں دیکھا گیا، جہاں صرف اسپین میں ہی ایک دن میں 1500 کیسز ریکارڈ کیے گیے۔

یہ بھی پڑھیے:کورونا وائرس، ٹرمپ کا 26 ممالک پر سفری پابندیوں کا اعلان، سٹاک مارکیٹس، تیل کی عالمی منڈیوں میں گراوٹ

یورپ کے تیزی سے متاثر ہونے والے ممالک میں اٹلی 21 ہزار 157 مریضوں کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ اسپین ساڑھے 6 ہزار مریضوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جرمنی اور فرانس میں بھی بالترتیب ساڑھے 4 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

یورپ کے دیگر ممالک سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، ناروے، سویڈن اور نیدرلینڈ میں بھی ایک ہزار سے 1400 تک کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

چین کے بعد کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں 1441 اٹلی میں ہوئی ہیں، ہلاکتوں کے حوالے سے دوسرے 611 کے ساتھ ایران دوسرے، 196 کے ساتھ اسپین تیسرے، 91 کے ساتھ فرانس چوتھے، 72 کے ساتھ جنوبی کوریا پانچویں اور 60 کے قریب تک ہلاکتوں کے ساتھ امریکا چھٹے نمبر پر ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here